خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 322
خلافة على منهاج النبوة ۳۲۲ جلد دوم مشہور ممالک میں ایک ایک مسجد بنے گی۔پھر ایک ایک لاکھ روپیہ سے ہمارا کیا بنتا ہے۔ہمارا صرف مبلغوں کا سالانہ خرچ سوا لاکھ روپیہ کے قریب بنتا ہے اور اگر اس خرچ کو بھی شامل کیا جائے جو بیرونی جماعتیں کرتی ہیں تو یہ خرچ ڈیڑھ دو لاکھ روپیہ سالانہ بن جاتا ہے۔غرض میں نے اُس سے صرف ایک لاکھ روپیہ مانگا تھا مگر اُس نے مجھے اس سے بہت زیادہ دیا۔اب ہماری صدر انجمن احمدیہ کا سالانہ بجٹ تیرہ لاکھ روپیہ کا ہے اور اگر تحریک جدید کا سالانہ بجٹ بھی ملا لیا جائے تو ہمارا سارا بجٹ ۲۲ ،۲۳ لاکھ روپیہ سالانہ بن جاتا ہے پس اگر خدا تعالیٰ میری اس بیوقوفی کی دعا کو قبول کر لیتا تو ہمارا سارا کام ختم ہو جاتا۔مگر اللہ تعالیٰ نے کہا ہم تیری اس دعا کو قبول نہیں کرتے جس میں تو نے ایک لاکھ روپیہ مانگا ہے ہم تجھے اس سے بہت زیادہ دیں گے تاکہ سلسلہ کے کام چل سکیں۔اب اللہ تعالیٰ کے اس انعام کو دیکھ کر کہ میں نے ایک لاکھ مانگا تھا مگر اُس نے ۲۲ لاکھ سالانہ دیا میں سمجھتا ہوں کہ اگر میں ایک کروڑ مانگتا تو ۲۲ کروڑ سالانہ ملتا۔ایک ارب مانگتا تو ۲۲ ارب سالا نہ ملتا۔ایک کھرب مانگتا تو ۲۲ کھرب سالانہ ملتا اور اگر ایک پدم مانگتا تو ۲۲ پدم سالا نہ ملتا اور اس طرح ہماری جماعت کی آمد امریکہ اور انگلینڈ دونوں کی مجموعی آمد سے بھی بڑھ جاتی۔پس خلافت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بہت سی برکات وابستہ کی ہوئی ہیں تم ابھی بچے ہو تم اپنے باپ دادوں سے پوچھو کہ قادیان کی حیثیت جو شروع زمانہ خلافت میں تھی وہ کیا تھی اور پھر قادیان کو اللہ تعالیٰ نے کس قدر ترقی بخشی تھی۔جب میں خلیفہ ہوا تو پیغامیوں نے اس خیال سے کہ جماعت کے لوگ خلافت کو کسی طرح چھوڑ نہیں سکتے یہ تجویز کی کہ کوئی اور خلیفہ بنا لیا جائے۔اُن دنوں ضلع سیالکوٹ کے ایک دوست میر عابد علی صاحب تھے۔وہ صوفی منش آدمی تھے لیکن بعد میں پاگل ہو گئے تھے ایک دفعہ انہیں خیال آیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جو خدا تعالیٰ نے وعدے کئے تھے وہ میرے ساتھ بھی ہیں اور چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ قادیان میں طاعون نہیں آئے گی اس لئے میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے برابر ہوں تو خدا تعالیٰ کا یہی وعدہ میرے ساتھ بھی ہے میرے گاؤں میں بھی طاعون نہیں آئے گی۔چنانچہ جب طاعون کی وبا