خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 321
خلافة على منهاج النبوة ۳۲۱ جلد دوم نے دیا ہے میں نے وہ خدا تعالیٰ کے راستے میں ہی دے دیا ہے۔بیشک میرے بیوی بچے مانگتے رہیں میں انہیں نہیں دیتا میں انہیں کہتا ہوں کہ تمہیں وہی گزارے دوں گا جن سے تمہارے معمولی اخراجات چل سکیں۔زمانہ کے حالات کے مطابق میں بعض اوقات انہیں زیادہ بھی دے دیتا ہوں۔مثلاً اگر وہ ثابت کر دیں کہ اس وقت گھی مہنگا ہو گیا ہے، ایندھن کی قیمت چڑھ گئی ہے یا دھوبی وغیرہ کا خرچ بڑھ گیا ہے تو میں اس کے لحاظ سے زیادہ بھی دے دیتا ہوں لیکن اس طرح نہیں کہ ساری کی ساری آمدن ان کے حوالہ کر دوں کہ جہاں جی چاہیں خرچ کر لیں۔غرض میں گھر کے معمولی گزارہ کے لئے اخراجات رکھنے کے بعد جو کچھ بچتا ہے وہ سلسلہ کو دے دیتا ہوں۔اگر اللہ تعالیٰ فضل کرے اور کسی وقت وہ ہمارے ملک والوں کو عقل اور سمجھ دے دے اور ہماری آمد میں بڑھ جائیں تو سال میں ایک مسجد چھوڑ دو دو مساجد بھی ہم بنوا سکتے ہیں اور یہ سب خلافت ہی کی برکت ہے۔میں جب نیا نیا خلیفہ ہوا تو مجھے الہام ہوا کہ مبارک ہو قادیان کی غریب جماعت تم پر خلافت کی رحمتیں یا برکتیں نازل ہوتی ہیں“۔اس دفعہ میں نے یہ الہام لکھ کر قادیان والوں کو بھجوا دیا اور ان کو توجہ دلائی کہ تم اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرو اور دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ وہ برکتیں تم پر ہمیشہ نازل کرتا رہے۔اب خلافت کی برکات سے اس علاقہ والوں کو بھی حصہ ملنا شروع ہو گیا ہے۔چنانچہ اس علاقہ ملنا ہے۔میں کسی زمانہ میں صرف چند ا حمدی تھے مگر اب ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی ہے اور ہمیں امید ہے کہ اگر خدا تعالیٰ چاہے تو وہ ایک دو سال میں پندرہ بیس ہزار ہو جائیں گے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے ایک دفعہ میں نے خدا تعالیٰ سے ایک لاکھ روپیہ مانگا تھا لیکن اب میں خدا تعالیٰ سے اربوں مانگا کرتا ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ میں نے اُس وقت ایک لاکھ روپیہ مانگ کر غلطی کی۔اس وقت یورپین اور دوسرے اہم ممالک کا شمار کیا جائے اور ان مقامات کا جائزہ لیا جائے جہاں مسجدوں کی ضرورت ہے تو ان کی تعداد ڈیڑھ سو کے قریب بن جاتی ہے۔اور اگر ان ڈیڑھ سو مقامات پر ایک ایک مسجد بھی بنائی جائے اور ہر ایک مسجد پر ایک ایک لاکھ روپیہ خرچ کیا جائے تو ان پر ڈیڑھ کروڑ روپیہ خرچ ہو جائے گا اور پھر بھی صرف ا