خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 320

خلافة على منهاج النبوة وو جلد دوم وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔اس پر میں نے کہا کہ میں یہ روپیہ تو لے لیتا ہوں لیکن اس شرط پر کہ میں یہ روپیہ سلسلہ کے کاموں پر ہی صرف کروں گا۔چنانچہ میں نے وہ روپیہ تو لے لیا لیکن میں نے اسے اپنی ذات پر نہیں بلکہ سلسلہ کے کاموں پر خرچ کیا اور صد را منجمن احمدیہ کو دے دیا۔اب میں نے ہیمبرگ کی مسجد کے لئے تحریک کی ہے کہ جماعت کے دوست اس کے لئے ڈیڑھ ڈیڑھ سو روپیہ دیں لیکن اگر اللہ تعالیٰ ہمیں مال دے تو ہمارے سلسلہ میں تو یہ ہونا چاہیے کہ ہمارا ایک ایک آدمی ایک ایک مسجد بنا دے۔خود مجھے خیال آتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ مجھے کشائش عطا فرمائے تو میں بھی اپنی طرف سے ایک مسجد بنا دوں اور کوئی تعجب نہیں کہ خدا تعالیٰ مجھے اپنی زندگی میں ہی اس بات کی توفیق دے د۔دے دے اور میں کسی نہ کسی یورپین مملک میں اپنی طرف سے ایک مسجد بنا دوں۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے دینے پر منحصر ہے۔انسان کی اپنی کوشش سے کچھ نہیں ہو سکتا۔ہم لوگ زمیندار ہیں اور ہمارے ملک میں زمیندارہ کی بہت ناقدری ہے یعنی یہاں لائکپور اور سرگودھا کے اضلاع کی زمینوں میں بڑی سے بڑی آمدن ایک سو روپیہ فی ایکڑ ہے حالانکہ یورپین ممالک میں فی ایکڑ آمد اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔میں جب یورپ گیا تو میں نے وہاں زمینوں کی آمد میں پوچھنی شروع کیں مجھے معلوم ہوا کہ اٹلی میں فی ایکڑ آمد چار سو روپیہ ہے اور ہالینڈ میں فی ایکٹر آمد تین ہزار روپیہ ہے۔پھر میں نے میاں محمد ممتاز صاحب دولتانہ کا بیان پڑھا وہ جاپان گئے تھے اور وہاں اُنہوں نے زمین کی آمدنوں کا جائزہ لیا تھا۔انہوں نے بیان کیا تھا کہ جاپان میں فی ایکٹر آمد چھ ہزار روپے ہے۔اس کے یہ معنی ہوئے کہ اگر میری ایک سو ایکڑ زمین بھی ہو حالانکہ وہ اس سے بہت زیادہ ہے اور اس سے ہالینڈ والی آمد ہو تو تین لاکھ روپیہ سالانہ کی آمد ہو جاتی ہے اور اگر جاپان والی آمد ہو تو بڑی آسانی کے ساتھ ایک نہیں کئی مساجد میں اکیلا تعمیر کر سکتا ہوں۔میرا یہ طریق ہے کہ میں اپنی ذات پر زیادہ روپیہ خرچ نہیں کرتا اور نہ اپنے خاندان پر خرچ کرتا ہوں بلکہ جو کچھ میرے پاس آتا ہے اس میں سے کچھ رقم اپنے معمولی اخراجات کے لئے رکھنے کے بعد سلسلہ کے لئے دے دیتا ہوں۔خرچ کرنے کو تو لوگ دس دس کروڑ روپیہ بھی کر لیتے ہیں لیکن مجھے جب بھی خدا تعالیٰ