خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 319
خلافة على منهاج النبوة ۳۱۹ جلد دوم مانگا جائے وہ خود خدا کی ذات ہو تو پھر ایک لاکھ روپیہ مانگنے کے کیا معنی ہیں۔مجھے تو یہ دعا کرنی چاہیے تھی کہ اے خدا! تو مجھے ایک ارب روپیہ دے، ایک کھرب روپیہ دے یا ایک پدم روپیہ دے۔میں نے بتایا ہے کہ اگر چہ میں نے خدا تعالیٰ سے صرف ایک لاکھ روپیہ مانگا تھا لیکن خدا تعالیٰ نے اتنا فضل کیا کہ صرف میں نے پچھلے سالوں میں چھ لاکھ ستر ہزار روپیہ سلسلہ کو چندہ کے طور پر دیا ہے۔بے شک وہ روپیہ سارا نقدی کی صورت میں نہ تھا۔کچھ زمین تھی جو میں نے سلسلہ کو دی مگر وہ زمین بھی خدا تعالیٰ نے ہی دی تھی۔میرے پاس تو زمین نہیں تھی۔ہم تو اپنی ساری زمین قادیان چھوڑ آئے تھے۔اپنے باغات اور مکانات بھی قادیان چھوڑ آئے تھے۔قادیان میں میری جائداد کافی تھی مگر اس کے باوجود میں نے سلسلہ کو اتنار و پیہ نہیں دیا تھا جتنا قادیان سے نکلنے کے بعد دیا۔۱۹۴۷ء میں ہم قادیان سے آئے ہیں اور تحریک جدید ۱۹۳۴ء میں شروع ہوئی تھی۔گویا اُس وقت تحریک جدید کو جاری ہوئے بارہ سال کا عرصہ گزر چکا تھا اور اس بارہ سال کے عرصہ میں میرا تحریک جدید کا چندہ قریباً چھ ہزار روپیہ تھا لیکن بعد کے دس سال ملا کر میرا چندہ تحریک جدید دو لاکھ بیس ہزار روپیہ بن جاتا ہے۔اس کے علاوہ ڈیڑھ لاکھ روپیہ کی زمین میں نے تحریک جدید کو دی ہے یہ زمین مجھے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے بطور نذرانہ دی تھی۔میں نے خیال کیا کہ اتنا بڑا نذرانہ اپنے پاس رکھنا درست نہیں چنانچہ میں نے وہ ساری زمین سلسلہ کو دے دی۔اس طرح تین لاکھ ستر ہزار روپیہ میں نے صرف تحریک جدید کو ادا کیا۔اسی طرح خلافت جو بلی کے موقع پر چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی تحریک پر جب جماعت نے مجھے روپیہ پیش کیا تو میر محمد اسحق صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی اولاد کے متعلق جو دعائیں کی ہیں ان میں یہ دعا بھی ہے کہ دے اس کو عمر و دولت کر دُور ہر اندھیرا پس اس روپیہ کے ذریعہ آپ کی یہ دعا پوری ہوگی۔اس طرح یہ پیشگوئی بھی پوری ہوگی کہ :۔