خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 317
خلافة على منهاج النبوة ۳۱۷ جلد دوم انہوں نے کہا کہ مجھے بیعت کے الفاظ یاد ہیں میں بیعت کے الفاظ بولتا جاتا ہوں اور آپ دُہراتے جائیں چنانچہ وہ دوست بیعت کے الفاظ بولتے گئے اور میں انہیں دُہرا تا گیا اور اس طرح میں نے بیعت لی۔گویا پہلے دن کی بیعت دراصل کسی اور کی تھی میں تو صرف بیعت کے الفاظ دُہراتا جاتا تھا۔بعد میں میں نے بیعت کے الفاظ یاد کئے۔غرض اُس وقت وہی حال ہوا جو اُس وقت ہوا تھا جب حضرت ابوبکر خلیفہ منتخب ہوئے تھے۔میں نے دیکھا کہ لوگ بیعت کرنے کے لئے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے۔مولوی محمد علی صاحب ایک طرف بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کہا دوستو غور کر لو اور میری ایک بات سن لو۔مجھے معلوم نہ ہوا کہ لوگوں نے انہیں کیا جواب دیا کیونکہ اُس وقت بہت شور تھا بعد میں پتہ لگا کہ لوگوں نے انہیں کہا ہم آپ کی بات نہیں سنتے۔چنانچہ وہ مجلس سے اٹھ کر باہر چلے گئے اس کے بعد لوگ ہجوم کر کے بیعت کے لئے بڑھے اور ایک گھنٹہ کے اندر اندر جماعت کا شیرازہ قائم ہو گیا۔اُس وقت جس طرح میرے ذہن میں خلافت کا کوئی خیال نہیں تھا اسی طرح یہ بھی خیال نہیں تھا کہ خلافت کے ساتھ ساتھ کونسی مشکلات مجھ پر ٹوٹ پڑیں گی۔بعد میں پتہ لگا کہ پانچ چھ سو روپے ماہوار تو سکول کے اساتذہ کی تنخواہ ہے اور پھر کئی سو کا قرضہ ہے لیکن خزانہ میں صرف ۷ اروپے ہیں گویا اُس مجلس سے نکلنے کے بعد محسوس ہوا کہ ایک بڑی مشکل ہمارے سامنے ہے۔جماعت کے سارے مالدار تو دوسری پارٹی کے ساتھ چلے گئے ہیں اور جماعت کی کوئی آمدنی نہیں پھر یہ کام کیسے چلیں گے۔لیکن بعد میں خدا تعالیٰ کے فضلوں کی جو بارش ہوئی تو بگڑی سنور گئی۔۱۹۱۴ء میں تو میرا یہ خیال تھا کہ خزانہ میں صرف ۱۷ روپے ہیں اور اساتذہ کی تنخواہوں کے علاوہ کئی سو روپیہ کا قرضہ ہے جو دینا ہے لیکن ۱۹۲۰ء میں جماعت کی یہ حالت تھی کہ جب میں نے اعلان کیا کہ ہم برلن میں مسجد بنائیں گے اس کے لئے ایک لاکھ روپیہ کی ضرورت ہے تو جماعتوں کی عورتوں نے ایک ماہ کے اندر اندر یہ رو پید اکٹھا کر دیا۔انہوں نے اپنے زیور اتار کر دے دیئے کہ انہیں بیچ کر رو پیدا کٹھا کر لیا جائے۔آج میں نے عورتوں کے اجتماع میں اس واقعہ کا ذکر کیا تو میری ایک بیوی نے بتایا کہ مجھے تو اُس وقت پورا ہوش نہیں تھا میں ابھی بچی تھی اور مجھے سلسلہ کی ضرورتوں کا