خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 316

خلافة على منهاج النبوة ۳۱۶ جلد دوم عزتیں ختم ہو جائیں گی اور عرب تمہاری تگا بوٹی کر ڈالیں گے تم یہ بات نہ کرو۔بعض انصار نے آپ کے مقابل پر دلائل پیش کرنے شروع کئے۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں میں نے خیال کیا کہ حضرت ابو بکر کو تو بولنا نہیں آتا میں انصار کے سامنے تقریر کروں گا لیکن جب حضرت ابوبکر نے تقریر کی تو آپ نے وہ سارے دلائل بیان کر دیئے جو میرے ذہن میں تھے اور پھر اس سے بھی زیادہ دلائل بیان کئے۔میں نے یہ دیکھ کر اپنے دل میں کہا کہ آج یہ بڑھا مجھ سے بڑھ گیا ہے آخر اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ خود انصار میں سے بعض لوگ کھڑے ہو گئے اور اُنہوں نے کہا حضرت ابو بکر جو کچھ فرما رہے ہیں وہ ٹھیک ہے مکہ والوں کے سوا عرب کسی اور کی اطاعت نہیں کریں گے۔پھر ایک انصاری نے جذباتی طور پر کہا۔اے میری قوم ! اللہ تعالیٰ نے اس ملک میں اپنا ایک رسول مبعوث فرمایا۔اس کے اپنے رشتہ داروں نے اُسے شہر سے نکال دیا تو ہم نے اسے اپنے گھروں میں جگہ دی اور خدا تعالیٰ نے اس کے طفیل ہمیں عزت دی۔ہم مدینہ والے گمنام تھے ، ذلیل تھے مگر اس رسول کی وجہ سے ہم معزز اور مشہور ہو گئے اب تم اس چیز کو جس نے ہمیں معزز بنایا کافی سمجھو اور زیادہ لالچ نہ کروایا نہ ہو کہ ہمیں اس کی وجہ سے کوئی نقصان پہنچے۔اُس وقت حضرت ابو بکڑ نے فرمایا کہ دیکھو خلافت کو قائم کرنا ضروری ہے باقی تم جس کو چاہو خلیفہ بنا لو مجھے خلیفہ بننے کی کوئی خواہش نہیں۔آپ نے فرمایا۔یہ ابو عبیدہ ہیں ان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امین الامت کا خطاب عطا فرمایا ہے تم ان کی بیعت کر لو۔پھر عمر‎ میں یہ اسلام کے لئے ایک ننگی تلوار ہیں تم ان کی بیعت کر لو۔حضرت عمرؓ نے فرمایا ابو بکر ! اب باتیں ختم کیجئے ہاتھ بڑھائیے اور ہماری بیعت لیجئے۔حضرت ابو بکر کے دل میں بھی اللہ تعالیٰ نے جرات پیدا کر دی اور آپ نے بیعت لے لی۔بعینہ یہی واقعہ حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کی وفات کے بعد میرے ساتھ پیش آیا۔جب میں نے کہا میں اس قابل نہیں کہ خلیفہ بنوں نہ میری تعلیم ایسی ہے اور نہ تجربہ۔تو اُس وقت بارہ چودہ سو احمدی جو جمع تھے اُنہوں نے شور مچا دیا کہ ہم آپ کے سوا اور کسی کی بیعت کرنا نہیں چاہتے مجھے اُس وقت بیعت کے الفاظ بھی یاد نہیں تھے۔میں نے کہا مجھے تو بیعت کے الفاظ بھی یاد نہیں میں بیعت کیسے لوں۔اس پر ایک دوست کھڑے ہو گئے اور