خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 315
خلافة على منهاج النبوة ۳۱۵ جلد دوم مذکور ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن کریم نے خود اس وعدہ کی تشریح کر دی ہے کہ ہمارا یہ وعدہ کہ ہم تم میں سے مومنوں اور اعمال صالحہ بجا لانے والوں کو اسی طرح خلیفہ بنا ئیں گے جیسے ہم نے ان سے پہلے یہود و نصاریٰ میں خلیفہ بنائے ، ضروری نہیں کہ پورا ہو۔ہاں اگر تم بعض باتوں پر عمل کرو گے تو ہمارا یہ وعدہ ضرور پورا ہوگا۔پہلی شرط اس کی یہ بیان فرماتا ہے کہ وعد الله الذينَ آمَنُوا مِنْكُمْ تمہیں خلافت پر ایمان رکھنا ہو گا۔چونکہ آگے خلافت کا ذکر آتا ہے اس لئے یہاں ایمان کا تعلق اس سے سمجھا جائے ا وَعَمِلُوا الصلحت پھر تمہیں نیک اعمال بجالانے ہوں گے۔اب کسی چیز پر ایمان لانے کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ اسے پورا کرنے کی کوشش کی جائے مثلاً کسی شخص کو اس بات پر ایمان ہو کہ میں بادشاہ بننے والا ہوں یا اسے ایمان ہو کہ میں کسی بڑے عہدہ پر پہنچنے والا ہوں تو وہ اس کے لئے مناسب کوشش بھی کرتا ہے۔اگر ایک طالب علم یہ سمجھے کہ وہ ایم۔اے کا امتحان پاس کرے تو اس کیلئے موقع ہے کہ وہ سی۔پی۔ایس پاس کرے۔یا پراونشل سروس | میں ای۔اے سی بن جائے یا اسٹنٹ کمشنر بن جائے تو پھر وہ اس کے مطابق محنت بھی کرتا ہے۔لیکن اگر اسے یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ ان عہدوں کے حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا تو وہ ان کے لئے کوشش اور محنت بھی نہیں کرتا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ لوگ جن کو اس بات پر یقین ہو کہ وہ خلافت کے ذریعہ ہی ترقی کر سکتے ہیں اور پھر وہ اس کی شان کے مطابق کام بھی کریں تو ہمارا وعدہ ہے کہ ہم انہیں خلیفہ بنائیں گے لیکن اگر انہیں یقین نہ ہو کہ ان کی ترقی خلافت کے ساتھ وابستہ ہے اور وہ اس کے مطابق عمل بھی نہ کرتے ہوں تو ہمارا ان سے کوئی وعدہ نہیں۔چنانچہ دیکھ لومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت ہوئی اور پھر کیسی شاندار ہوئی۔آپ کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر خلیفہ ہوئے۔اُس وقت انصار نے چاہا کہ ایک خلیفہ ہم میں سے ہو اور ایک خلیفہ مہاجرین میں سے ہو۔یہ سنتے ہی حضرت ابو بکر حضرت عمرؓ اور بعض اور صحابہ فوراً اس جگہ تشریف لے گئے جہاں انصار جمع تھے اور آپ نے انہیں بتایا کہ دیکھو د وخلیفوں والی بات غلط ہے تفرقہ سے اسلام ترقی نہیں کرے گا خلیفہ بہر حال ایک ہی ہوگا اگر تم تفرقہ کرو گے تو تمہارا شیرازہ بکھر جائے گا۔تمہاری