خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 314
خلافة على منهاج النبوة ۳۱۴ جلد دوم میری تقریر تھی اس وقت تمہاری باری آگئی ہے۔چار پانچ دن کے بعد انصار اللہ کی باری آ جائے گی پھر جلسہ سالانہ آ جائے گا اُس موقع پر بھی مجھے تقاریر کرنی ہونگی۔پھر ان کا موں کے علاوہ تفسیر کا اہم کام بھی ہے جو میں کر رہا ہوں۔اس کی وجہ سے نہ صرف مجھے کوفت محسوس ہو رہی ہے بلکہ طبیعت پر بڑا بوجھ محسوس ہو رہا ہے اس لئے اگر چہ میری خواہش تھی کہ اس موقع پر میں لمبی تقریر کروں مگر میں زیادہ لمبی تقریر نہیں کر سکتا۔اب پیشتر اس کے کہ میں اپنی تقریر شروع کروں آپ سب کھڑے ہو جائیں تا کہ عہد دُہرایا جائے“۔(حضور کے اس ارشاد پر تمام خدام کھڑے ہو گئے اور حضور نے عہد دُہرایا۔عہد " ڈ ہرانے کے بعد حضور نے فرمایا :۔) آج میں قرآن کریم کی ایک آیت کے متعلق کچھ زیادہ تفصیل سے بیان کرنا چاہتا تھا مگر اس وقت میں محسوس کرتا ہوں کہ میں اس تفصیل کے ساتھ بیان نہیں کر سکتا کیونکہ کل میں نے خطبہ جمعہ بھی پڑھا اور پھر آپ کے اجتماع میں بھی تقریر کی۔اسی طرح آج صبح لجنہ اماء اللہ کے اجتماع میں مجھے تقریر کرنی پڑی جس کی وجہ سے مجھے اس وقت کوفت محسوس ہو رہی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ :۔وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ ليَسْتَخْلِفَنَّهُمْ في الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْراهِمْ وَلَيُمَكنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ ص وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا ، يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا، وَمَن كَفَرَ بعد ذلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الفَسِقُونَ لا یعنی ہم تم میں سے مومن اور ایمان بالخلافت رکھنے والوں اور اس کے مطابق عمل کرنے والوں سے وعدہ کرتے ہیں کہ ان کو ہم ضرور اس طرح خلیفہ بنا ئیں گے جس طرح کہ پہلی قوموں یعنی یہود اور نصاری میں سے بنائے ہیں۔اس آیت سے پتہ لگتا ہے کہ خلافت ایک عہد ہے پیشگوئی نہیں۔اور عہد مشروط ہوتا ہے لیکن پیشگوئی کے لئے ضروری نہیں کہ وہ مشروط ہو۔پیشگوئی مشروط ہو تو وہ مشروط رہتی ہے اور اگر مشروط نہ ہو لیکن اس میں کسی انعام کا وعدہ ہو تو وہ ضرور پوری ہو جاتی ہے۔یہاں وعدہ کا لفظ بھی موجود ہے اور اس کے ساتھ شرط بھی