خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 309

خلافة على منهاج النبوة ۳۰۹ جلد دوم شائع کر دیا۔پھر میں نے الفضل جاری کیا تو اُس وقت بھی میرے پاس روپیہ نہیں تھا۔حکیم محمد عمر صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے میں آپ کو کچھ خریدار بنا کر لا دیتا ہوں اور تھوڑی دیر میں وہ ایک پوٹلی روپوں کی میرے پاس لے آئے۔غرض ہم نے پیسوں سے کام شروع کیا اور آج ہمارا لا کھوں کا بجٹ ہے اور ہماری انجمن کی جائیداد کروڑوں کی ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ میں خود گزشتہ بیس سال کی تحریک جدید میں تین لاکھ ستر ہزار روپیہ چندہ دے چکا ہوں۔اسی طرح ایک لاکھ پچاس ہزار روپیہ میں نے صدرانجمن احمدیہ کو دیا ہے اور اتنی ہی جائیدادا سے دی ہے گویا تین لاکھ صدر انجمن احمدیہ کو دیا ہے اور تین لاکھ ستر ہزار روپیہ تحریک جدید کو دیا ہے اس لئے جب کوئی شخص اعتراض کرتا ہے کہ میں نے جماعت کا روپیہ کھالیا ہے تو مجھے غصہ نہیں آتا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ حسابی بات ہے۔جب انجمن کے رجسٹر سامنے آجائیں گے تو یہ شخص آپ ہی ذلیل ہو جائے گا۔بہر حال اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے میں آپ سب کو اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ان کو یا درکھو اور اپنی جگہوں پر واپس جا کر اپنے بھائیوں اور دوستوں کو بھی سمجھاؤ کہ زبانی طور پر وفاداری کا عہد کرنے کے کوئی معنی نہیں۔اگر تم واقعی وفادار ہو تو تمہیں منافقوں کا مقابلہ کرنا چاہئے اور ان کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہیں رکھنا چاہئے کیونکہ انہوں نے لایا لوتكم خبالا والی بات پوری کر دی ہے اور وہ جماعت میں فتنہ اور تفرقہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔قرآن کریم کی ہدایت یہی ہے کہ ان سے مخفی طور پر اور الگ ہو کر بات نہ کی جائے اور اس پر تمہیں عمل کرنا چاہیے تا کہ تم شیطانی حملوں سے محفوظ ہو جاؤ ور نہ تم جانتے ہو کہ شیطان حضرت حوا کی معرفت جنت میں گھس گیا تھا اور جو شیطان حضرت حوا کی معرفت جنت میں گھس گیا تھا وہ جماعت احمدیہ میں کیوں نہیں گھس سکتا۔ہاں اگر تم کو حضرت آدم والا قصہ یادر ہے تو تم اس سے بچ سکتے ہو۔بائبل کھول کر پڑھو تمہیں معلوم ہوگا کہ شیطان نے دوست اور خیر خواہ بن کر ہی حضرت آدم اور حوا کو ورغلایا تھا اسی طرح یہ لوگ بھی دوست اور ظاہر میں خیر خواہ بن کر تمہیں خراب کر سکتے ہیں لیکن اگر تم قرآنی ہدایت