خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 308

خلافة على منهاج النبوة ۳۰۸ جلد دوم نے ایسی برکت دی کہ اب ہم اپنے کسی طالب علم کو سترہ روپے ماہوار وظیفہ بھی دیتے ہیں تو یہ وظیفہ کم ہونے کی شکایت کرتا ہے۔پیغامیوں کے خلاف پہلا اشتہار شائع کرنے کے لئے میرے پاس روپیہ نہیں تھا۔میر ناصر نواب صاحب جو ہمارے نانا تھے ، اُنہیں پتہ لگا وہ دار الضعفاء کے لئے چندہ جمع کیا کرتے تھے۔ان کے پاس اُس چندہ کا کچھ روپیہ تھا وہ دواڑھائی سو روپیہ میرے پاس لے آئے اور کہنے لگے اس سے اشتہار چھاپ لیں پھر خدا دے گا تو یہ رقم واپس کر دیں۔پھر خدا تعالیٰ نے فضل کیا اور آمد آنی شروع ہوئی اور اب یہ حالت ہے کہ پچھلے ہیں سال کی تحریک جدید میں تین لاکھ ستر ہزار روپیہ چندہ میں نے دیا ہے۔کجا یہ کہ ایک اشتہار شائع کرنے کے لئے میرے پاس دو اڑھائی سو روپیہ بھی نہیں تھا اور کجا یہ کہ خدا تعالیٰ نے میری اس قسم کی امداد کی اور زمیندارہ میں اس قدر برکت دی کہ میں نے لاکھوں روپیہ بطور چندہ جماعت کو دیا۔پھر مجھے یاد ہے کہ جب ہم نے پہلا پارہ شائع کرنا چاہا تو میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ ہمارے خاندان کے افراد اپنے روپیہ سے اسے شائع کر دیں لیکن روپیہ پاس نہیں تھا۔اُس وقت تک ہماری زمینداری کا کوئی انتظام نہیں تھا۔میں نے اپنے مختار کو بلایا اور کہا ہم قرآن کریم چھپوانا چاہتے ہیں لیکن روپیہ پاس نہیں۔وہ کہنے لگا آپ کو کس قدر روپے کی ضرورت ہے؟ میں نے کہا کہتے ہیں کہ پہلی جلد تین ہزار روپے میں چھپے گی۔اس نے کہا میں روپیہ لا دیتا ہوں۔آپ صرف اس قدرا جازت دے دیں کہ میں کچھ زمین مکانوں کے لئے فروخت کر دوں۔میں نے کہا اجازت ہے۔ظہر کی نماز کے بعد میں نے اُس سے بات کی اور عصر کی اذان ہوئی تو اُس نے ایک پوٹلی میرے سامنے لا کر رکھ دی اور کہا یہ لیں روپیہ۔میں نے کہا ہیں ! قادیان والوں کے ہاں اتنا روپیہ ہے؟ وہ کہنے لگا اگر آپ تمیں ہزار روپیہ بھی چاہیں تو میں آپ کو لا دیتا ہوں۔لوگ مکانات بنانا چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس زمین نہیں۔اگر انہیں زمین دے دی جائے تو روپیہ حاصل کرنا مشکل نہیں۔میں نے کہا خیر اس وقت ہمیں اسی قدر روپیہ کی ضرورت ہے چنانچہ اُس وقت ہم نے قرآن کریم کا پہلا پارہ