خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 287

خلافة على منهاج النبوة ۲۸۷ جلد دوم نوجوانان جماعت سے خطاب خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع منعقدہ ۲۰ نومبر ۱۹۵۵ء کو نوجوانانِ جماعت سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے فرمایا :۔۔پھر میں ایک اور بات کہنی چاہتا ہوں۔کل میں نے تم کو بھی دیکھا اور انصار کو بھی دیکھا۔شاید کچھ اس بات کا بھی اثر ہو گا کہ فالج کی وجہ سے میری نظر کمزور ہوگئی ہے اور میں پوری طرح نہیں دیکھ سکا ہوں گا لیکن بہر حال مجھے نظر یہ آیا کہ جیسے چہرے افسردہ ہیں اور جھلسے جھلسے سے ہیں۔میں نے سمجھا شاید میری بیماری کے خیال سے ایسا ہے چنانچہ میں نے بعض دوستوں سے ذکر کیا تو اُنہوں نے کہا طوفان کی وجہ سے لوگوں کی مالی حالت خراب ہوگئی ہے اس وجہ سے ان کے چہرے افسردہ ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔اگر میری بیماری اس کی وجہ ہو تو میں تو ایک انسان ہوں۔آخر انسان کب تک تمہارے اندر رہے گا۔اس کے بعد آخر خدا ہی سے واسطہ پڑنا ہے۔۔۔کیوں نہ خدا ہی سے شروع سے واسطہ رکھو۔حضرت ابو بکڑ نے کیا سچائی بیان کی تھی کہ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْمَاتَ وَمَنْ كَان يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَقٌّ لَا يَمُوتُ اگر خدا پر توکل کرو گے تو معلوم نہیں تمہارا اس دنیا کے ساتھ ہزار سال واسطہ پڑنا ہے یا دو ہزار سال پڑنا ہے بہر حال ہزار دو ہزار کا عرصہ خدا کے لئے تو کچھ بھی نہیں مگر اس تو کل کے نتیجہ میں وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گا۔اس بیماری میں مجھے خیال آیا کرتا ہے کہ کچھ خیر خواہ دوستوں کی بیوقوفیوں کی بھی سزا مجھے ملی ہے۔وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ خدا آپ کو عمر نوح دے۔عمر نوح تو ہزار سال کہتے ہیں میں تو ستاسٹھ سال میں اپنے جسم کو ایسا کمزور محسوس کر رہا ہوں کہ مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے میری روح گویا قید کی ہوئی ہے۔اگر بجائے عمر نوح کی