خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 275
خلافة على منهاج النبوة ۲۷۵ جلد دوم میں مشورہ لینا اور جہاں تک ہو سکے اس کے ماتحت چلنا ضروری ہے۔چهارم : اندرونی دباؤ یعنی اخلاقی۔علاوہ شریعت اور شوریٰ کے اس پر نگران اس کا وجود بھی ہے کیونکہ وہ مذہبی رہنما بھی ہے اور نمازوں کا امام بھی۔اس وجہ سے اس کا دماغی اور شعوری دباؤ اور نگرانی بھی اسے راہ راست پر چلانے والا ہے جو خالص سیاسی ، ہے منتخب یا غیر منتخب حاکم پر نہیں ہوتا۔پنجم : مساوات۔خلیفہ اسلامی انسانی حقوق میں مساوی ہے جو دنیا میں اور کسی حاکم کو حاصل نہیں وہ اپنے حقوق عدالت کے ذریعہ سے لے سکتا ہے اور اس سے بھی حقوق عدالت کے ذریعہ سے لئے جاسکتے ہیں۔ششم : عصمت صغریٰ۔عصمت صغریٰ اسے حاصل ہے یعنی اسے مذہبی مشین کا پُرزہ قرار دیا گیا ہے اور وعدہ کیا گیا ہے کہ ایسی غلطیوں سے اُسے بچایا جائے گا جو تباہ کن ہوں اور خاص خطرات میں اس کی پالیسی کی اللہ تعالی تائید کرے گا اور اسے دشمنوں پر فتح دے گا گویا وہ مؤید میں اللہ ہے اور دوسرا کسی قسم کا حاکم اس میں اس کا شریک نہیں۔ہفتم: وہ سیاسیات سے بالا ہوتا ہے اس لئے اس کا کسی پارٹی سے تعلق نہیں ہوسکتا۔وہ ایک باپ کی حیثیت رکھتا ہے اس کے لئے کسی پارٹی میں شامل ہونا یا اس کی طرف مائل ہونا جائز نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے واذا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بالعدل کے یعنی جب ایسے شخص کا انتخاب ہو تو اس کا فرض ہے کہ وہ کامل انصاف سے فیصلہ کرے۔کسی ایک طرف خواہ شخصی ہو یا قومی ہو نہ جھکے“۔( الفرقان مئی ۱۹۶۷ء صفحہ ۶ ،۷ ) ٢٠١ النساء: ۵۹