خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 267

خلافة على منهاج النبوة جلد دوم الہام خود ساختہ ہیں۔اگر عیسائیوں اور یہودیوں کا یہ قول درست تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وحی نَعُوذُ بِاللهِ خود ساختہ تھی تو اللہ تعالیٰ کی غیرت کا تقاضا یہ تھا کہ وہ ان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابل پر الہام کر دیتا تا مفتریوں کی قلعی کھل جاتی۔لیکن اللہ تعالیٰ کا ان کو الہام سے محروم رکھنا بتا تا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی حق تھے اور آپ کے دشمن یہودی اور عیسائی ناحق پر تھے۔اسی طرح آج مولوی محمد علی صاحب یہ کہتے ہیں کہ میرے الہام جھوٹے ہیں لیکن کیوں اللہ تعالیٰ ان کو میرے مقابل پر بچے الہام نہیں کر دیتا ، تا دنیا پر واضح ہو جائے کہ مولوی صاحب حق پر ہیں اور میں ناحق پر ہوں۔حیرت کی بات ہے کہ ایک شخص دن رات اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو گمراہ کرے اور دن رات اُس کے بندوں کو فریب اور دغا بازی سے غلط راستہ کی طرف لے جائے لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ کو غیرت نہ آئے۔اگر اللہ تعالیٰ کو غیرت نہیں آتی تو اس کی وجہ سوائے اس کے یقیناً اور کوئی نہیں کہ اللہ تعالیٰ یہ جانتا ہے کہ مولوی صاحب اس کے قرب سے بہت دُور ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے اُن کو الہام نہیں کیا۔پس سچائی کے مقابلے میں ابتداء سے انکار ہوتا رہا ہے یہ سلسلہ ابتداء سے چلتا آیا ہے اور چلتا چلا جائے گا۔ایک بالکل واضح بات ہے کہ نبوت کے بعد خلافت ہوتی ہے لیکن لوگ پھر بھی اس طریق کو بھول جاتے ہیں۔وقت سے پہلے وہ ان باتوں کو اپنی مجالس میں دُہراتے اور ان کا اقرار کرتے ہیں لیکن عین موقع پر ان کا صاف انکار کر دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب فوت ہوئے تو حضرت خلیفہ اول کو اِس قد رصدمہ ہوا کہ شدت غم کی وجہ سے آپ کے منہ سے بات تک نہیں نکلتی تھی اور ضعف اس قدر تھا کہ کبھی کمر پر ہاتھ رکھتے اور کبھی ماتھے پر ہاتھ رکھتے۔اسی حالت میں مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی نے حضرت خلیفہ اول کا ہاتھ پکڑ کر کہا انتَ الصِّدِّيقُ اور بعض اور فقرات بھی کہے جن کا مفہوم یہ تھا کہ خلافت اسلام کی سنت ہے لیکن بعد میں مولوی سید محمد احسن صاحب اس بات پر قائم نہ رہے اور اُنہوں نے خلافت سے منہ پھیر لیا۔مولوی محمد علی صاحب یا ان کے رفقاء نے ان کے بچوں کو آٹے کی مشین لگوا دینے کا وعدہ کیا تھا۔پس اس بات پر لڑ کے اور بیوی پیغامیوں کا