خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 249

خلافة على منهاج النبوة ۲۴۹ جلد دوم تب خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لوگوں کی ہدایت کے لئے مبعوث کیا۔دنیا ان کی بعثت پر حیران رہ گئی کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب خدا تعالیٰ کے انعامات کو اس رنگ میں پانے والا کہ وہ قطعی اور یقینی طور پر خدا اور بندے کو آمنے سامنے کر دے کوئی نہیں آسکتا۔جن لوگوں کی آنکھیں کھلی تھیں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا آپ پر ایمان لائے اور انہوں نے یوں محسوس کیا جیسے ایک کھویا ہوا بچہ اپنی ماں کی گود میں بیٹھ جاتا ہے۔انہوں نے دیکھا کہ وہ لوگ جو صدیوں سے خدا سے دُور جاچکے تھے اس شخص کے ذریعہ خدا کی گود میں جا بیٹھے ہیں۔اُن کی خوشیوں کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا ، اُن کی فرحت کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا۔وہ لوگ جو سمجھتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خدا تعالیٰ کے کسی نبی کا مبعوث ہونا ناممکن ہے جہاں اُن کے غصہ کی کوئی حد نہ تھی وہاں مومنوں کی خوشی اور اُن کی مسرت کی بھی کوئی حد نہ تھی اور اُنہوں نے یہ خیال کرنا شروع کر لیا کہ اتنے صدموں کے بعد اب کوئی اور صدمہ انہیں پیش نہیں آئے گا۔چنانچہ ہر شخص جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لاتا تهَا إِلَّا مَا شَاءَ اللہ جس کا ایمان ابھی اپنے کمال کو نہیں پہنچا تھا یہ تو نہیں سمجھتا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت نہیں ہوں گے مگر ہر شخص یہ ضرور سمجھتا تھا کہ کم سے کم میری موت کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ہوگی۔مگر ایک دن آیا کہ ہر شخص جو یہ سمجھ رہا تھا کہ میری موت کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہوں گے اُس نے دیکھا کہ وہ تو زندہ تھا مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے اُٹھا لیا۔وہ وقت پھر اُن لوگوں کے لئے جو سچے مومن تھے نہایت مصیبت کا وقت تھا اور یہ صدمہ ایسا شدید تھا کہ جس کی چوٹ کو برداشت کرنا بظا ہر وہ ناممکن خیال کرتے تھے لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے جو چیز آتی ہے اُسے بہر حال لینا پڑتا ہے اور انسان کو نئی حالت کے تابع ہونا پڑتا ہے اِسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ : اے عزیز و ! جب کہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلاوے سو اب ممکن نہیں