خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 10
خلافة على منهاج النبوة جلد دوم خلیفہ کا ادب اور مقام جلسہ سالانہ ۱۹۲۶ء کے دوسرے دن ۲۷ / دسمبر کی تقریر میں دیگر متفرق امور کے علاوہ احباب جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے خلیفہ کے ساتھ ادب اور تقویٰ سے معاملات کرنے کے بارہ میں حضرت مصلح موعود نے فرمایا :۔اسی طرح یہاں جب ہمارے عقیدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ خلیفہ قائم کرتا ہے وہ اگر اموال تلف کرتا ہے یا تلف کرنے دیتا ہے تو وہ خود خدا کے حضور جوابدہ ہے تم اس پر اعتراض نہیں کر سکتے لیکن اگر بہترین نتائج پیدا کرنے کے لئے خرچ کرتا ہے تو پھر معترض شخص خطر ہے۔تقومی اور ادب سیکھو آپ لوگوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ تم نے اقرار کیا ہے کہ تم ہر چیز کو میرے حکم پر قربان کر دو گے۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ اس اقرار کا پورے طور پر خیال نہیں رکھا جا تا۔اقرار تو یہ تھا کہ جو کچھ میں کہوں وہ تم کرو گے لیکن عمل یہ ہے کہ چند پیسوں پر ابتلاء آ جاتا ہے۔یہ تمام وسو سے تقوی کی کمی سے پیدا ہوتے ہیں اس لئے میں تقویٰ کے حصول کے لئے اور اس میں ترقی کے لئے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں۔خواہ آپ میں سے بعض مجھ سے عمر میں بڑے ہوں لیکن ایک بات آپ میں سے کسی میں نہیں۔وہ یہ کہ میں خدا کا قائم کردہ خلیفہ ہوں۔میری تمام زندگی میں لوگ میری بیعت کریں گے۔میں کسی کی خدا کے قانون کے مطابق بیعت نہیں کر سکتا اور یہ عہدہ میری موجودگی میں تم میں سے کسی کو نہیں مل سکتا۔نبوت کے بعد سب سے بڑا عہدہ یہ ہے۔ایک شخص نے مجھے کہا کہ ہم کوشش کرتے ہیں تا گورنمنٹ آپ کو کوئی خطاب دے۔میں نے کہا یہ خطاب تو ایک معمولی بات ہے۔میں شہنشاہ عالم کے عبدہ