خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 241
خلافة على منهاج النبوة ۲۴۱ جلد دوم تھا، جب صرف چودہ آنے کے پیسے اس میں موجود تھے ، جب اٹھارہ ہزار کا انجمن پر قرض تھا، جب انجمن کی اکثریت میری مخالف تھی ، جب انجمن کا سیکرٹری میرا مخالف تھا ، جب مدرسہ کا ہیڈ ماسٹر میر ا مخالف تھا میرے یہ الفاظ ہیں جو میں نے خدا کے منشا کے ماتحت اُس اشتہار میں شائع کئے کہ : ”خدا چاہتا ہے کہ جماعت کا اتحاد میرے ہی ہاتھ پر ہو اور خدا کے اس ارادہ کو اب کوئی نہیں روک سکتا۔کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ان کے لئے صرف دو ہی راہ کھلے ہیں یا تو وہ میری بیعت کر کے جماعت میں تفرقہ کرنے سے باز رہیں یا اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے پڑ کر اس پاک باغ کو جسے پاک لوگوں نے خون کے آنسوؤں سے سینچا تھا اُکھاڑ کر پھینک دیں۔جو کچھ ہو چکا ہو چکا مگر اب اس میں کوئی شک نہیں کہ جماعت کا اتحاد ایک ہی طریق سے ہو سکتا ہے کہ جسے خدا نے خلیفہ بنایا ہے اُس کے ہاتھ پر بیعت کی جائے ورنہ ہر ایک شخص جو اُس کے خلاف چلے گا تفرقہ کا باعث ہوگا۔پھر میں نے لکھا :۔66 اگر سب دنیا مجھے مان لے تو میری خلافت بڑی نہیں ہوسکتی اور سب کے سب خدانخواستہ مجھے ترک کر دیں تو بھی خلافت میں فرق نہیں آ سکتا۔جیسے نبی اکیلا ہی نبی ہوتا ہے اسی طرح خلیفہ اکیلا بھی خلیفہ ہوتا ہے۔پس مبارک ہے وہ جو خدا کے فیصلہ کو قبول کرے۔خدا تعالیٰ نے جو بوجھ مجھ پر رکھا ہے وہ بہت بڑا ہے اور اگر اُس کی مدد میرے شامل حال نہ ہو تو میں کچھ نہیں کر سکتا۔لیکن مجھے اُس پاک ذات پر یقین ہے کہ وہ ضرور میری مدد کرے گی۔“ غرض طرح طرح کی مخالفتیں ہوئیں سیاسی بھی اور مذہبی بھی ، اندرونی بھی اور بیرونی بھی مگر خدا تعالیٰ نے مجھے توفیق دی کہ میں جماعت کو اور زیادہ ترقی کی طرف لے جاؤں۔چنانچہ یہ جماعت بڑھنی شروع ہوئی یہاں تک کہ آج دنیا کے کونے کونے میں یہ جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے پھیل چکی ہے۔اسی شہر لاہور میں پہلے جماعت احمدیہ کے صرف چند افراد ہوا کرتے تھے مگر آج ہزاروں کی تعداد میں یہاں جماعت موجود ہے اسی