خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 9
خلافة على منهاج النبوة جلد دوم وہ کہتا ہے وہی درست ہے۔پھر یہ بھی شرط ہے کہ پہلے وہ اس اختلاف کو خلیفہ کے سامنے پیش کرے اور بتائے کہ فلاں بات کے متعلق مجھے یہ شبہ ہے اور خلیفہ سے وہ شبہ دور کرائے۔جس طرح ڈاکٹر کو بھی مریض کہہ دیا کرتا ہے کہ مجھے یہ تکلیف ہے آپ بیماری کے متعلق مزید غور کریں۔پس اختلاف کرنے والے کا فرض ہے کہ جس بات میں اُسے اختلاف ہوا سے خلیفہ کے سامنے پیش کرے نہ کہ خود ہی اس کی اشاعت شروع کر دے۔ورنہ اگر یہ بات جائز قرار دے دی جائے کہ جو بات کسی کے دل میں آئے وہی بیان کرنی شروع کر دے تو پھر اسلام کا کچھ بھی باقی نہ رہے۔کیونکہ ہر شخص میں صحیح فیصلہ کی طاقت نہیں ہوتی۔ورنہ قرآن شریف میں یہ نہ آتا کہ جب امن یا خوف کی کوئی بات سنو تو اولی الامر کے پاس لے جاؤ۔کیا اُولی الامر غلطی نہیں کرتے ؟ کرتے ہیں مگر ان کی رائے کو احترام بخشا گیا ہے اور جب ان کی رائے کا احترام کیا گیا ہے تو خلفاء کی رائے کا احترام کیوں نہ ہو۔ہر شخص اس قابل نہیں ہوتا کہ ہر بات کے متعلق صحیح نتیجہ پر پہنچ سکے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔اگر کوئی شخص تقویٰ کے لئے سو بیویاں بھی کرے تو اس کے لئے جائز ہیں۔ایک شخص نے یہ بات سن کر دوسرے لوگوں میں آ کر بیان کیا کہ اب چار بیویاں کرنے کی حد نہ رہی سو تک انسان کر سکتا ہے اور یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرما دی ہے۔آپ سے جب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا میری تو اس سے یہ مراد تھی کہ اگر کسی کی بیویاں مرتی جائیں تو خواہ اُس کی عمر کوئی ہو تقویٰ کے لئے شادیاں کر سکتا ہے۔پس ہر شخص ہر بات کو صحیح طور پر نہیں سمجھ سکتا اور جماعت کے اتحاد کے لئے ضروری ہے کہ اگر کسی کو کسی بات میں اختلاف ہو تو اُسے خلیفہ کے سامنے پیش کرے۔اگر کوئی شخص اس طرح نہیں کرتا اور اختلاف کو اپنے دل میں جگہ دے کر عام لوگوں میں پھیلاتا ہے تو وہ بغاوت کرتا ہے اسے اپنی اصلاح کرنی چاہئے“۔(انوار العلوم جلد ۹ صفحه ۱۶۳،۱۶۲)