خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 8

خلافة على منهاج النبوة جلد دوم کیا خلیفہ سے اختلاف ہوسکتا ہے؟ حضرت مصلح موعود نے ۱۹۲۵ء کو قادیان کے جلسہ سالانہ کے موقع پر اپنی تقریر میں چند متفرق امور جو جماعت کی اصلاح اور ترقی کے لئے ضروری تھے بیان فرمائے۔یہ تقریر منہاج الطالبین کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔اس میں حضور ” خلیفہ کے ساتھ اختلاف ہوسکتا ہے یا نہیں “ کے مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔وو ایک اور خیال مجھے بتایا گیا ہے اور وہ یہ کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ خلیفہ سے چونکہ اختلاف جائز ہے اس لئے ہمیں ان سے فلاں فلاں بات میں اختلاف ہے۔میں نے ہی پہلے اس بات کو پیش کیا تھا اور میں اب بھی پیش کرتا ہوں کہ خلیفہ سے اختلاف جائز ہے مگر ہر بات کا ایک مفہوم ہوتا ہے۔اس سے بڑھنا دانائی اور عقلمندی کی علامت نہیں ہے۔دیکھو کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ڈاکٹر کی ہر رائے درست ہوتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ڈاکٹر بیسیوں دفعہ غلطی کرتے ہیں مگر باوجود اس کے کوئی یہ نہیں کہتا کہ چونکہ ڈاکٹر کی رائے بھی غلط ہوتی ہے اس لئے ہم اپنا نسخہ آپ تجویز کریں گے، کیوں؟ اس لئے کہ ڈاکٹر نے ڈاکٹری کا کام باقاعدہ طور پر سیکھا ہے اور اس کی رائے ہم سے اعلیٰ ہے۔اسی طرح وکیل بیسیوں دفعہ غلطی کر جاتے ہیں مگر مقدمات میں انہی کی رائے کو وقعت دی جاتی ہے اور جو شخص کوئی کام زیادہ جانتا ہے اس میں اس کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے۔پس اختلاف کی بھی کوئی حد بندی ہونی چاہئے۔ایک شخص جو خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے اُسے سمجھنا چاہئے کہ خلفا ء خدا مقرر کرتا ہے اور خلیفہ کا کام دن رات لوگوں کی راہنمائی اور دینی مسائل میں غور وفکر ہوتا ہے۔اس کی رائے کا دینی مسائل میں احترام ضروری ہے اور اس کی رائے سے اختلاف اُسی وقت جائز ہو سکتا ہے جب اختلاف کرنے والے کو ایک اور ایک دو کی طرح یقین ہو جائے کہ جو بات