خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 218
خلافة على منهاج النبوة ۲۱۸ جلد دوم اس دعا کے یہ معنی ہیں کہ تمہیں چوتھی خلافت ملے ایسا نہ ہو کہ تمہاری شامت اعمال سے اس نعمت کا دروازہ تم پر بند ہو جائے۔پس ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حضور دعاؤں میں مشغول رہو اور اس امر کو اچھی طرح یا درکھو کہ جب تک تم میں خلافت رہے گی دنیا کی کوئی قوم تم پر غالب نہیں آ سکے گی اور ہر میدان میں تم مظفر ومنصور رہو گے کیونکہ خدا کا وعدہ ہے جو اُس نے ان الفاظ میں کیا کہ وعد الله الّذينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ ليَسْتَخْلِفَنَّهُمْ في الأرض مگر اس بات کو بھی یاد رکھو کہ ومَن كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ خدا تمہارےساتھ ہوا ور ابد الآباد تک تم اس کی برگزیدہ جماعت رہو۔اختتامی الفاظ : ۲۹ / دسمبر حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے دو بجے جب تقریر ختم فرمائی تو جلسہ پر تشریف لانے والے اصحاب کو جانے کی اجازت دیتے ہوئے فرمایا : - اب جلسہ ختم ہوتا ہے اور احباب اپنے گھروں کو جائیں گے۔انہیں احمدیت کی ترقی کیلئے ہر وقت کوشاں رہنا چاہئے۔اولاد پیدا ہونے کے ذریعہ بھی ترقی ہوتی ہے مگر وہ ایسی نہیں جو تبلیغ کے ذریعہ ہوتی ہے۔یہ ترقی اولاد کے ذریعہ ہونے والی ترقی سے بڑھ کر با برکت ہوتی ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے ایک شخص کا ہدایت پا جانا اس سے زیادہ بہتر ہوتا ہے کہ کسی کے پاس اس قدر سرخ اونٹ ہوں کہ ان سے دو وادیاں بھر جائیں۔۹۲ پس تبلیغ کرو اور احمدیت کی اشاعت میں منہمک رہو تا کہ تمہاری زندگی میں اسلام اور احمدیت کی شوکت کا زمانہ آ جائے جبکہ سب لوگ احمدی ہو جائیں گے تو پھر رعا یا بھی احمدی ہوگی اور بادشاہ بھی احمدی۔میں نے بچپن میں ایک رؤیا دیکھا تھا ۱۲ ۱۳ سال کی عمر تھی کہ کبڈی ہو رہی ہے۔ایک طرف احمدی ہیں اور دوسری طرف مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور ان کے ساتھی جو شخص کبڈی کہتا ہوا مولوی محمد حسین صاحب کی طرف سے آتا ہے اسے ہم مار لیتے ہیں۔اور اس میں قاعدہ یہ ہے کہ جو مر جائے وہ دوسری پارٹی کا ہو جائے۔اس قاعدہ کی رُو سے مولوی صاحب کا جو ساتھی مارا جاتا وہ ہمارا ہو جاتا۔مولوی صاحب کے سب ساتھی اس طرح