خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 217
خلافة على منهاج النبوة ۲۱۷ جلد دوم مقابلہ میں اٹھ کر دیکھ لے۔خدا اُس کو ذلیل اور رُسوا کرے گا بلکہ اُسے ہی نہیں اگر دنیا جہان کی تمام طاقتیں مل کر بھی میری خلافت کو نابود کرنا چاہیں گی تو خدا اُن کو مچھر کی طرح مسل دے گا اور ہر ایک جو میرے مقابلہ میں اُٹھے گا گرایا جائے گا ، جو میرے خلاف بولے گا وہ خاموش کرایا جائے گا اور جو مجھے ذلیل کرنے کی کوشش کرے گا وہ خود ذلیل اور رُسوا ہو گا۔پس اے مومنوں کی جماعت اور اے عملِ صالح کرنے والو! میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ خلافت خدا تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اس کی قدر کرو جب تک تم لوگوں کی اکثریت ایمان اور عملِ صالح پر قائم رہے گی خدا اس نعمت کو نازل کرتا چلا جائے گا لیکن اگر تمہاری اکثریت ایمان اور عملِ صالح سے محروم ہو گئی تو پھر یہ امر اس کی مرضی پر موقوف ہے کہ وہ چاہے تو اس انعام کو جاری رکھے اور چاہے تو بند کر دے۔پس خلیفہ کے بگڑنے کا کوئی سوال نہیں خلافت اس وقت چھینی جائے گی جب تم بگڑ جاؤ گے۔پس اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی ناشکری مت کرو اور خدا تعالیٰ کے الہامات کو تحقیر کی نگاہ سے مت دیکھو بلکہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے تم دعاؤں میں لگے رہو تا قدرتِ ثانیہ کا پے در پے تم میں ظہور ہوتا رہے۔تم ان نا کاموں اور نا مرادوں اور بے علموں کی طرح مت بنو جنہوں نے خلافت کو رڈ کر دیا بلکہ تم ہر وقت ان دعاؤں میں مشغول رہو کہ خدا قدرت ثانیہ کے مظاہر تم میں ہمیشہ کھڑے کرتا رہے تا کہ اس کا دین مضبوط بنیادوں پر قائم ہو جائے اور شیطان اس میں رخنہ اندازی کرنے سے ہمیشہ کیلئے مایوس ہو جائے۔قدرتِ ثانیہ کے نزول کیلئے تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قدرتِ ثانیہ کے نزول کیلئے میشہ دعاؤں میں مشغول رہو دعاؤں کی جو شرط لگائی ہے وہ کسی ایک زمانہ کیلئے نہیں بلکہ ہمیشہ کیلئے ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں اس ارشاد کا یہ مطلب تھا کہ میرے زمانہ میں تم یہ دعا کرو کہ تمہیں پہلی خلافت نصیب ہوا اور پہلی خلافت کے زمانہ میں اس دعا کا یہ مطلب تھا کہ الہی ! اس کے بعد ہمیں دوسری خلافت ملے اور دوسری خلافت میں اس دعا کے یہ معنی ہیں کہ تمہیں تیسری خلافت ملے اور تیسری خلافت میں