خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 216
خلافة على منهاج النبوة ۲۱۶ جلد دوم تم سلامتی کے ساتھ منزل مقصود پر پہنچ جاؤ۔میں نے کہا ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا یہ سخت مشرکانہ فعل ہے۔اس کے بعد چکر اور بھی بڑھ گئے اور یہ خطرہ محسوس کیا جانے لگا کہ کہیں کشتی ڈوب ہی نہ جائے۔اس پر میر محمد اسحاق صاحب مجھ سے کہتے ہیں کہ اس میں حرج ہی کیا ہے بہتر یہ ہے کہ اس وقت ہم رقعہ لکھ کر ڈال دیں جب بچ جائیں گے تو پھر تو بہ کر لیں گے۔میں نے کہا ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔اس پر انہوں نے مجھ سے چُھپ کر رقعہ لکھا اور اُس کی مروڑی سی بنا کر چاہا کہ وہ رقعہ سمندر میں ڈال دیں۔اتفاقاً میں نے دیکھ لیا اور میں نے کہا میر صاحب! چاہے ہم ڈوب جائیں ایسی مشر کا نہ بات کا ارتکاب میں نہیں ہونے دوں گا۔چنانچہ میں نے وہ رقعہ ان سے چھین کر پھاڑ ڈالا اور اس کے بعد میں نے دیکھا کہ کشتی خود بخود بھنور میں سے نکل گئی۔اس رؤیا کے سالہا سال بعد اسی مقام پر جہاں خواب میں ہماری کشتی بھنور میں پھنسی تھی مستریوں کا فتنہ اٹھا اور انہوں نے کئی قسم کے الزامات لگائے۔پھر اس خواب کے عین مطابق ایک دن میر محمد اسحاق صاحب سخت گھبرا کر میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اس میں کیا حرج ہے کہ ہم ان لوگوں کو کچھ روپیہ دے دیں اور اس طرح ان کو خاموش کرا دیں ؟ میں نے کہا میر صاحب! اگر وہ باتیں ٹھیک ہیں جن کو یہ پیش کرتے ہیں تو پھر ان کو خاموش کرانے کے کوئی معنی نہیں اور اگر وہ باتیں غلط ہیں تو خدا ان کو خود تباہ کرے گا ہمیں اس بات کی کیا ضرورت ہے کہ ہم ان کو روپیہ دیں۔پس جہاں تک خلافت کا تعلق میرے ساتھ ہے اور جہاں تک اس خلافت کا ان خلفاء کے ساتھ تعلق ہے جو فوت ہو چکے ہیں ان دونوں میں ایک امتیاز اور فرق ہے۔ان کے ساتھ تو خلافت کی بحث کا علمی تعلق ہے اور میرے ساتھ نشانات خلافت کا معجزاتی تعلق ہے۔پس میرے لئے اس بحث کی کوئی حقیقت نہیں کہ کوئی آیت میری خلافت پر چسپاں ہوتی ہے یا نہیں۔میرے لئے خدا کے تازہ بتازہ نشانات اور اس کے زندہ معجزات اس بات کا کافی ثبوت ہیں کہ مجھے خدا نے خلیفہ بنایا ہے اور کوئی شخص نہیں جو میرا مقابلہ کر سکے۔اگر تم میں کوئی ماں کا بیٹا ایسا موجود ہے جو میرا مقابلہ کرنے کا شوق اپنے دل میں رکھتا ہو تو وہ اب میرے