خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 208
خلافة على منهاج النبوة ۲۰۸ جلد دوم عقیدہ کو ترک کر دوں گا تو یہ قرآن مجید کی عظمت اور اُس کی بزرگی کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا اور آپ کا مقصد یہ تھا کہ قرآن کے ایک لفظ کے خلاف بھی اگر میرا عقیدہ ہو تو میں ترک کرنے کیلئے تیار ہوں۔یہ مقصد نہیں تھا کہ واقع میں آپ کا کوئی عقیدہ خلاف قرآن ہے۔اسی طرح حضرت ابو بکر کے اس قول کے یہ معنی نہیں ہیں کہ آپ سے گفر بواح صادر ہو سکتا تھا بلکہ یہ معنی ہیں کہ صداقت ہر حالت میں قابل اتباع ہوتی ہے اور اُس کیلئے زید یا بکر کا کوئی سوال نہیں ہوتا اگر میں بھی کسی ایسے امر کا ارتکاب کروں تو تم میری اطاعت سے انکار کر دو۔یہ مطلب نہیں تھا کہ آپ کبھی خدا اور رسول کے حکم کے خلاف بھی کسی فعل کا ارتکاب کر سکتے تھے اور نہ اطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَ أولى الأمر منكم اور آیت استخلاف کی موجودگی میں یہ معنی ہو سکتے ہیں۔آیت استخلاف اور خلافت ثانیہ اب میں مختصراً آیت استخلاف کے ماتحت احمد یہ خلافت کے ذکر کو چھوڑ کر صرف اپنی خلافت کو لیتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے وعد الله الّذينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ ليَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْرِیم میں یہ بتایا ہے کہ جب تک قوم کی اکثریت میں ایمان اور عملِ صالح رہتا ہے اُن میں خلافت کا نظام بھی موجود رہتا ہے۔پس دیکھنا یہ چاہئے کہ (۱) کیا جماعت اب تک ایمان اور عمل صالح رکھتی ہے یعنی کیا ہماری جماعت کی شہرت نیک ہے اور کیا ہماری جماعت کے افراد کی اکثریت عملِ صالح رکھتی ہے؟ اس کیلئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔یہ بات ہر شخص پر ظاہر ہے کہ جماعت کی شہرت نیک ہے اور جماعت کی اکثریت عمل صالح پر قائم ہے۔پس جب ایمان اور عملِ صالح کی یہ حالت ہے تو خلافت کا وعدہ ضرور پورا ہونا چاہئے کیونکہ وعد الله اللّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصلحت کے الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے اس بات کا وعدہ کیا ہے اور وعدہ ضرور پورا ہوا کرتا ہے۔(۲) دوسری بات اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ