خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 187

خلافة على منهاج النبوة ۱۸۷ جلد دوم کیمیا کا نسخہ جو آپ کے والد صاحب جانتے تھے۔اب وہ حیران کہ میں اسے کیا کہوں۔آخر انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ مجھے کسی نسخے کا علم نہیں۔اس پر وہ نا کام ہو کر میرے پاس آئے اور کہنے لگے باپ والا بخل بیٹے میں بھی موجود ہے۔میں نے کہا۔یہ آپ جانیں کہ وہ بخیل ہیں یا نہیں مگر میں اُن کے جس حصے کا خلیفہ ہوں وہی مجھے ملا ہے اور کچھ نہیں ملا۔غرض جس رنگ کا کوئی شخص ہو اُسی رنگ کا اُس کا جانشین ہوتا ہے۔چونکہ حضر مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سپر د ملکی نظام نہیں تھا اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آپ کے خلفاء کے پاس کوئی نظام ملکی کیوں نہیں؟ آیت استخلاف میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام دوسرا جواب یہ ہے کہ اس ا آیت میں خلافت نظامی ہی کی نبوت اور خلافت دونوں شامل ہیں کے بارہ میں یہ نہیں آیا کہ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم بلکہ اس آیت میں جس قدر وعدے ہیں سب کے ساتھ ہی یہ الفاظ لگتے ہیں۔مگر غیر مبائعین میں سے بھی جو لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی مانتے ہیں جیسے شیخ مصری وغیرہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ آپ کی نبوت کلی طور پر پہلے نبیوں کی قسم کی نبوت نہیں بلکہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خودلکھا ہے یہ نبوت پہلی نبوتوں سے ایک بڑا اختلاف رکھتی ہے اور وہ یہ کہ پہلے نبی مستقل نبی تھے اور آپ امتی نبی ہیں۔پس جس طرح آپ کی نبوت کے پہلے نبیوں کی نبوت سے مختلف ہونے کے باوجود اس وعدہ کے پورا ہونے میں کوئی فرق نہیں آیا کہ ليَسْتَخْلِفَتَهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ من قبلهم اسی طرح خلافت کے مختلف ہونے کی وجہ سے بھی اس وعدہ کے پورا ہونے میں کوئی فرق نہیں آ سکتا۔اور اگر بعض باتوں میں پہلی خلافتوں سے اختلاف رکھنے کی وجہ سے یہ خلافت اس آیت سے باہر نکل جاتی ہے تو ماننا پڑیگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت بھی اس آیت کے ماتحت نہیں آتی کیونکہ اگر ہماری خلافت ابو بکر اور عمر کی خلافت سے کچھ اختلاف رکھتی ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت بھی پہلے نبیوں سے کچھ اختلاف رکھتی ہے۔پس اگر ہماری خلافت اس آیت کے ماتحت نہیں آتی تو ماننا پڑے گا کہ