خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 186

خلافة على منهاج النبوة JAY جلد دوم ہے وہ پا گئے تو دہلی کے ایک حکیم صاحب میرے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ میں آپ سے الگ ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔چنانچہ میں نے انہیں موقع دے دیا۔وہ پہلے تو مذہبی رنگ میں باتیں کرنے لگے اور کہنے لگے آپ کے والد صاحب کو خدا تعالیٰ نے بڑا درجہ بخشا خدا تعالیٰ کے مامور تھے اور جسے خدا تعالیٰ نے مامور بنا دیا ہو اس کا بیٹا بھلا کہاں بخیل ہوسکتا ہے مجھے آپ سے ایک کام ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ اس معاملہ میں میری مدد کریں اور بخل سے کام نہ لیں۔میں نے کہا فرمائیے کیا کام ہے۔وہ کہنے لگے مجھے کیمیا گری کا بڑا شوق ہے اور میں نے اپنی تمام عمر اس میں برباد کر دی ہے۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ حضرت مولوی صاحب کو کیمیا کا نسخہ آتا تھا اب چونکہ آپ اُن کی جگہ خلیفہ مقرر ہوئے ہیں اس لئے وہ آپ کو ضرور کیمیا کا نسخہ بتا گئے ہونگے۔پس مہربانی کر کے وہ نسخہ مجھے بتا دیجئے۔میں نے کہا مجھے تو کیمیا کا کوئی نسخہ نہیں بتا گئے۔وہ کہنے لگے یہ ہو کس طرح سکتا ہے کہ آپ اُن کی جگہ خلیفہ ہوں اور وہ آپ کو کیمیا کا نسخہ بھی نہ بتا گئے ہوں۔غرض میں انہیں جتنا یقین دلاؤں کہ مجھے کیمیا کا کوئی نسخہ نہیں ملا اتنا ہی ان کے دل میں میرے بخل کے متعلق یقین بڑھتا چلا جائے میں انہیں بار بار کہوں کہ مجھے ایسے کسی نسخہ کا علم نہیں اور وہ پھر میری خوشامد کرنے لگ جائیں اور نہایت لجاجت سے کہیں کہ میری ساری عمر اس نسخہ کی تلاش میں گزرگئی ہے آپ تو بخل سے کام نہ لیں اور یہ نسخہ مجھے بتا دیں۔آخر جب میں اُن کے اصرار سے بہت ہی تنگ آ گیا تو میرے دل میں خدا تعالیٰ نے ایک نکتہ ڈال دیا اور میں نے اُن سے کہا کہ گومیں مولوی صاحب کی جگہ خلیفہ بنا ہوں مگر آپ جانتے ہیں کہ حضرت مولوی صاحب کے مکان مجھے نہیں ملے۔وہ کہنے لگے مکان کس کو ملے ہیں۔میں نے کہا اُن کے بیٹوں کو۔پھر میں نے کہا اُن کا ایک بڑا بھاری کتب خانہ تھا مگر وہ بھی مجھے نہیں ملا۔پس جب کہ مجھے نہ اُن کے مکان ملے اور نہ اُن کا کتب خانہ ملا ہے تو وہ مجھے کیمیا کا نسخہ کس طرح بتا سکتے تھے۔اگر انہوں نے یہ نسخہ کسی کو بتایا ہوگا تو اپنے بیٹوں کو بتایا ہوگا۔آپ اُن کے پاس جائیں اور کہیں کہ وہ نسخہ آپ کو بتا دیں۔چنانچہ وہ میرے پاس سے اٹھ کر چلے گئے۔عبدالحی مرحوم ان دنوں زندہ تھے وہ جاتے ہی اُن سے کہنے لگے کہ لائیے نسخہ۔انہوں نے کہا نسخہ کیسا۔کہنے لگے وہی