خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 177

خلافة على منهاج النبوة 122 جلد دوم تاریخ میں لکھا ہے کہ یزید کے مرنے کے بعد جب اس کا بیٹا تخت نشین ہوا جس کا نام بھی اپنے دادا کے نام پر معاویہ ہی تھا تو لوگوں سے بیعت لینے کے بعد وہ اپنے گھر چلا گیا اور چالیس دن تک باہر نہیں نکلا۔پھر ایک دن وہ باہر آیا اور منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں سے کہنے لگا کہ میں نے تم سے اپنے ہاتھوں پر بیعت لی ہے مگر اس لئے نہیں کہ میں اپنے آپ کو تم سے بیعت لینے کا اہل سمجھتا ہوں بلکہ اس لئے کہ میں چاہتا تھا کہ تم میں تفرقہ پیدا نہ ہو اور اُس وقت سے لیکر اب تک میں گھر میں یہی سوچتا رہا کہ اگر تم میں کوئی شخص لوگوں سے بیعت لینے کا اہل ہو تو میں یہ امارت اُس کے سپر د کر دوں اور خود بری الذمہ ہو جاؤں مگر با وجود بہت غور کرنے کے مجھے تم میں کوئی ایسا آدمی نظر نہیں آیا اس لئے اے لوگو! یہ اچھی طرح سن لو کہ میں اس منصب کے اہل نہیں ہوں اور میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ میرا باپ اور میرا دادا بھی اس منصب کے اہل نہیں تھے۔میرا باپ حسینؓ سے درجہ میں بہت کم تھا اور اس کا باپ حسن حسینؓ کے باپ سے کم درجہ رکھتا تھا۔علی اپنے وقت میں خلافت کا حقدار تھا اور اس کے بعد بہ نسبت میرے دادا اور باپ کے حسن اور حسین خلافت کے زیادہ حقدار تھے اس لئے میں اس امارت سے سبکدوش ہوتا ہوں۔" اب یہ تمہاری مرضی پر منحصر ہے کہ جس کی چا ہو بیعت کر لو۔اس کی ماں اُس وقت پردہ کے پیچھے اُس کی تقریر سن رہی تھی جب اُس نے اپنے بیٹے کے یہ الفاظ سنے تو بڑے غصہ سے کہنے لگی کہ کمبخت ! تو نے اپنے خاندان کی ناک کاٹ دی ہے اور اس کی تمام عزت خاک میں ملا دی ہے۔وہ کہنے لگا جو سچی بات تھی وہ میں نے کہہ دی ہے اب آپ کی جو مرضی ہو مجھے کہیں۔چنانچہ اس کے بعد وہ اپنے گھر میں بیٹھ گیا اور تھوڑے ہی دن گزرنے کے بعد وفات پا گیا۔یہ کتنی زبردست شہادت اس بات کی ہے کہ یزید کی خلافت پر دوسرے لوگوں کی رضا تو الگ رہی خود اس کا اپنا بیٹا بھی متفق نہ تھا۔یہ نہیں کہ بیٹے نے کسی لالچ کی وجہ سے ایسا کیا ہو۔یہ بھی نہیں کہ اس نے کسی مخالفت کے ڈر سے ایسا کیا ہو بلکہ اس نے اپنے دل میں سنجیدگی کے ساتھ غور اور فکر کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ میرے دادا سے علیؓ کا حق زیادہ تھا اور میرے باپ سے حسنؓ حسین کا۔اور میں اس بوجھ کو اُٹھانے کیلئے تیار نہیں ہوں۔پس معاویہ کا یزید کو مقرر کرنا کوئی