خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 169
خلافة على منهاج النبوة ۱۶۹ جلد دوم ہے کہ یہ وعدہ بعض افراد کے ذریعہ پورا نہیں ہونا چاہئے بلکہ امت کے ہر فرد کو خلافت کا انعام ملنا چاہئے۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ یہود کے متعلق جب اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ جَعَلَكُمْ مُّلُوا تو مفسرین نہایت ٹھنڈے دل کے ساتھ یہ کہہ دیتے ہیں کہ گو بادشاہت چند افراد کو ہی ملی مگر چونکہ اُن کے ذریعہ قوم کا عام معیار بلند ہو گیا اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان سب کو بادشاہت ملی۔مگر جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ تو کہنے لگ جاتے ہیں کہ یہ وعدہ سب قوم سے ہے ہم یہ تسلیم نہیں کر سکتے کہ بعض افراد کے ذریعہ یہ وعدہ پورا ہوا حالانکہ اگر اس سے قومی غلبہ ہی مراد لے لیا جائے تو بھی ہر مومن کو یہ غلبہ کہاں حاصل ہوتا ہے۔پھر بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ بعض کو غلبہ ملتا ہے اور بعض کو نہیں ملتا۔صحابہ میں سے بھی کئی ایسے تھے جو قو می غلبہ کے زمانہ میں بھی غریب ہی رہے اور ان کی مالی حالت کچھ زیادہ اچھی نہ ہوئی ) حضرت ابو ہریرہ کا ہی لطیفہ ہے۔جب حضرت علی اور معاویہ کی آپس میں جنگ ہوئی اور صفین کے مقام پر دونوں لشکروں نے ڈیرے ڈال دیئے تو باوجود اس کے کہ حضرت علی اور حضرت معاویہؓ کے کیمپوں میں ایک ایک میل کا فاصلہ تھا جب نماز کا وقت آتا تو حضرت ابو ہریرہ حضرت علیؓ کے کیمپ میں آ جاتے اور جب کھانے کا وقت آتا تو حضرت معاویہ کے کیمپ میں چلے جاتے۔کسی نے اُن سے کہا کہ آپ بھی عجیب آدمی ہیں اُدھر حضرت علی کی مجلس میں چلے جاتے ہیں اور ادھر معاویہ کی مجلس میں شریک ہو جاتے ہیں۔یہ کیا بات ہے؟ وہ کہنے لگے۔نما ز علی کے ہاں اچھی ہوتی ہے اور کھانا معاویہ کے ہاں اچھا ملتا ہے اس لئے جب نماز کا وقت ہوتا ہے میں اُدھر چلا جاتا ہوں اور جب روٹی کا وقت آتا ہے تو ادھر آ جاتا ہوں۔معاویہ کے ہاں سے انہیں چونکہ کھانے کیلئے پلاؤ اور متنجن وغیرہ ملتا تھا اس لئے وہ اُس وقت اُدھر چلے جاتے مگر نماز چونکہ حضرت علی کی رقت اور سوز والی ہوتی تھی اس لئے نماز کے وقت وہ آپ کے ساتھ شریک ہو جاتے۔ایک غیر مبائع دوست کا لطیفہ ہمارے بعض غیر مبائع دوستوں کا بھی ایسا ہی حال ہے بلکہ اُن کا لطیفہ تو ابو ہریرہ کے لطیفے