خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 103

خلافة على منهاج النبوة ١٠٣ جلد دوم حضرت خلیفہ اول کے سامنے پیش کی تو آپ نے میری طرف دیکھ کر فرمایا کہ خواب تو پوری ہو گئی۔میں نے عرض کیا کہ کس طرح؟ آپ نے فرمایا۔میر محمد اسحاق نے کچھ سوالات لکھ کر دیئے ہیں۔وہ سوال میں نے باہر جماعتوں کو بھجوا دیئے ہیں۔میں سمجھتا ہوں اس سے بہت بڑا فتنہ پیدا ہوگا۔مجھے اس پر بھی کچھ معلوم نہ ہوا کہ میر محمد اسحاق صاحب نے کیا سوالات کئے ہیں لیکن بعد میں میں نے بعض دوستوں سے پوچھا تو انہوں نے ان سوالات کا مفہوم بتایا اور مجھے معلوم ہوا کہ وہ سوالات خلافت کے متعلق ہیں۔میر صاحب کے ان سوالات کی وجہ سے جماعت میں ایک شور برپا ہو گیا اور چاروں طرف سے ان کے جوابات آنے شروع ہو گئے۔اس وقت ان لوگوں نے جس طرح جماعت کو دھوکا میں مبتلاء کرنا چاہا وہ اس سے ظاہر ہے کہ انہوں نے متواتر جماعت کو یہ کہا کہ جن خیالات کا وہ اظہار کر رہے ہیں وہی خیالات حضرت خلیفہ اول کے ہیں۔چنانچہ وہ کہتے خدا کا شکر ہے کہ ایسے بے نفس آدمی کے زمانہ میں یہ سوال اُٹھا اگر بعد میں اُٹھتا تو نہ معلوم کیا فساد کھڑا ہوتا۔بعض کہتے کہ بہت اچھا ہوا آج جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اکثر صحابہ زندہ ہیں اس امر کا فیصلہ ہونے لگا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اصل جانشین انجمن ہی ہے۔غرض جماعت پر یہ پوری طرح اثر ڈالنے کی کوشش کی گئی کہ ( نَعُوذُ باللهِ ( حضرت خلیفہ اول ان کے خیالات سے متفق ہیں۔مگر بہر حال اس وقت جماعت میں ایک غیر معمولی جوش پایا جاتا تھا اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ خلیفہ وقت کے خلاف خطر ناک بغاوت ہو جائے گی۔بیرونی جماعتوں کے نمائندوں آخر وہ دن آ گیا جو حضرت خلیفہ اول نے اس غرض کیلئے مقرر کیا تھا اور جس میں بیرونی کا قادیان میں اجتماع جماعتوں کے نمائندگان کو قادیان میں جمع ہونے کیلئے کہا گیا تھا۔میں اس روز صبح کی نماز کے انتظار میں اپنے دالان میں ٹہل رہا تھا اور حضرت خلیفہ اول کی آمد کا انتظار کیا جارہا تھا کہ میرے کانوں میں شیخ رحمت اللہ صاحب کی آواز آئی۔وہ بڑے جوش سے مسجد میں کہہ رہے تھے کہ غضب خدا کا ایک لڑکے کی خاطر جماعت کو تباہ کیا جا رہا ہے۔پہلے تو میں سمجھا کہ اس سے مراد شاید میر محمد اسحاق صاحب ہیں مگر پھر شیخ رحمت اللہ صاحب کی