خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 94
خلافة على منهاج النبوة ۹۴ جلد دوم مقداد بن الاسوڈ کے سپرد کی اور انہیں ہدایت کی کہ وہ سب کو ایک جگہ جمع کر کے فیصلہ کرنے پر مجبور کریں اور خود تلوار لے کر دروازہ پر پہرہ دیتے رہیں۔اور فرمایا کہ جس پر کثرت رائے سے اتفاق ہو سب لوگ اس کی بیعت کریں اور اگر کوئی انکار کرے تو اسے قتل کر دو۔لیکن اگر دونوں طرف تین تین ہو جائیں تو عبد اللہ بن عمر ان میں سے جس کو تجویز کریں وہ خلیفہ ہو۔اگر اس فیصلہ پر وہ راضی نہ ہوں تو جس طرف عبد الرحمن بن عوف ہوں وہ خلیفہ ہو۔آخر پانچوں اصحاب نے مشورہ کیا ( کیونکہ طلحہ اُس وقت مدینہ میں نہ تھے ) مگر کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔بہت لمبی بحث کے بعد حضرت عبد الرحمن بن عوف نے کہا کہ اچھا جو شخص اپنا نام واپس لینا چاہتا ہے وہ بولے۔جب سب خاموش رہے تو حضرت عبد الرحمن بن عوف نے کہا کہ سب سے پہلے میں اپنا نام واپس لیتا ہوں۔پھر حضرت عثمان نے کہا پھر باقی دو نے۔حضرت علیؓ خاموش رہے۔آخر انہوں نے حضرت عبد الرحمن بن عوف سے عہد لیا کہ وہ فیصلہ کرنے میں کوئی رعایت نہیں کریں گے۔انہوں نے عہد کیا اور سب کام ان کے سپرد ہو گیا۔حضرت عبدالرحمن بن عوف تین دن مدینہ کے ہر گھر گئے اور مردوں اور عورتوں سے پوچھا کہ ان کی رائے کس شخص کی خلافت کے حق میں ہے۔سب نے یہی کہا کہ انہیں حضرت عثمان کی خلافت منظور ہے۔چنانچہ انہوں نے حضرت عثمان کے حق میں اپنا فیصلہ دے دیا اور وہ خلیفہ ہو گئے۔حضرت علیؓ کا انتخاب اس کے بعد حضرت عثمان کا واقعہ شہادت ہوا اور وہ صحا بڑ جو مدینہ میں موجود تھے انہوں نے یہ دیکھ کر کہ مسلمانوں میں فتنہ بڑھتا جا رہا ہے حضرت علی پر زور دیا کہ آپ لوگوں کی بیعت لیں۔دوسری طرف کچھ مفسدین بھاگ کر حضرت علیؓ کے پاس پہنچے اور کہا کہ اس وقت اسلامی حکومت کے ٹوٹ جانے کا سخت اندیشہ ہے آپ لوگوں سے بیعت لیں تا کہ ان کا خوف دور ہو اور امن و امان قائم ہو۔غرض جب آپ کو بیعت لینے پر مجبور کیا گیا تو کئی دفعہ کے انکار کے بعد آپ نے اس ذمہ واری کو اٹھایا اور لوگوں سے بیعت لینی شروع کر دی بعض اکابر صحابہ اس وقت مدینہ سے باہر تھے اور بعض سے تو جبراً بیعت لی گئی۔چنانچہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے