خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 93
خلافة على منهاج النبوة ۹۳ جلد دوم آپ حضرت ابو بکر کی بیعت نہ کر سکے اور جب آپ بیعت کرنے کے لئے آئے تو آپ نے یہ معذرت کی کہ چونکہ فاطمہ بیمار تھیں اس لئے بیعت میں دیر ہو گئی۔۲۷ حضرت عمر کا انتخاب حضرت ابو بکر کی وفات جب قریب آئی تو آپ نے صحابہ سے مشورہ لیا کہ میں کس کو خلیفہ مقرر کروں۔اکثر صحابہ نے اپنی رائے حضرت عمر کی امارت کے متعلق ظاہر کی اور بعض نے صرف یہ اعتراض کیا کہ حضرت عمرؓ کی طبیعت میں سختی زیادہ ہے ایسا نہ ہو کہ لوگوں پر تشد دکریں۔آپ نے فرمایا یہ سختی اُسی وقت تھی جب تک ان پر کوئی ذمہ واری نہیں پڑی تھی اب جبکہ ایک ذمہ واری ان پر پڑ جائے گی ان کی سختی کا مادہ بھی اعتدال کے اندر آ جائے گا۔چنانچہ تمام صحابہ حضرت عمرؓ کی خلافت پر راضی ہو گئے۔آپ کی صحت چونکہ بہت خراب ہو چکی تھی اس لئے آپ نے اپنی بیوی اسماء کا سہارا لیا اور ایسی حالت میں جبکہ آپ کے پاؤں لڑکھڑا رہے تھے اور ہاتھ کا نپ رہے تھے آپ مسجد میں آئے اور تمام مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بہت دنوں تک متواتر اس امر پر غور کیا ہے کہ اگر میں وفات پا جاؤں تو تمہارا کون خلیفہ ہو۔آخر بہت کچھ غور کرنے اور دعاؤں سے کام لینے کے بعد میں نے یہی مناسب سمجھا ہے کہ عمرؓ کو خلیفہ نامزد کر دوں۔سو میری وفات کے بعد عمر تمہارے خلیفہ ہوں گے۔۲۸ سب صحابہ اور دوسرے لوگوں نے اس امارت کو تسلیم کیا اور حضرت ابو بکر کی وفات کے بعد حضرت عمرؓ کی بیعت ہوگئی۔حضرت عثمان کا انتخاب حضرت عمر جب زخمی ہوئے اور آپ نے محسوس کیا کہ اب آپ کا آخری وقت قریب ہے تو آپ نے چھ آدمیوں کے متعلق وصیت کی کہ وہ اپنے میں سے ایک کو خلیفہ مقرر کر لیں۔وہ چھ آدمی یہ تھے۔حضرت عثمان ، حضرت علیؓ، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد بن الوقاص، حضرت زبیر، حضرت طلحہ۔۲۹ اس کے ساتھ ہی حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کو بھی آپ نے اس مشورہ میں شریک کرنے کیلئے مقرر فرمایا مگر خلافت کا حقدار قرار نہ دیا اور وصیت کی کہ یہ سب لوگ تین دن میں فیصلہ کریں اور تین دن کیلئے صہیب کو امام الصلوۃ مقرر کیا اور مشورہ کی نگرانی