خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 92

خلافة على منهاج النبوة طرح جائز نہیں۔۹۲ جلد دوم آخر کچھ بحث مباحثہ کے بعد حضرت ابو عبیدہ کھڑے حضرت ابوبکر کا انتخاب ہوئے اور انہوں نے انصار کو توجہ دلائی کہ تم پہلی الله قوم ہو جو مکہ کے باہر ایمان لائی اب رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد تم پہلی قوم نہ بنو جنہوں نے دین کے منشاء کو بدل دیا۔اس کا طبائع پر ایسا اثر ہوا کہ بشیر بن سعد خزرجی کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ یہ لوگ سچ کہتے ہیں ہم نے محمد رسول اللہ کی جو خدمت کی اور آپ کی نصرت و تائید کی وہ دُنیوی اغراض سے نہیں کی تھی اور نہ اس لئے کی تھی کہ ہمیں آپ کے بعد حکومت ملے بلکہ ہم نے خدا کیلئے کی تھی پس حق کا سوال نہیں بلکہ سوال اسلام کی ضرورت کا ہے اور اس لحاظ سے مہاجرین میں سے ہی امیر مقرر ہونا چاہئے کیونکہ انہوں نے رسول کریم ﷺ کی لمبی صحبت پائی ہے۔اس پر کچھ دیر تک اور بحث ہوتی رہی مگر آخر آدھ یا پون گھنٹہ کے بعد لوگوں کی رائے اسی طرح ہوتی چلی گئی کہ مہاجرین میں سے کسی کو خلیفہ مقرر کرنا چاہئے چنانچہ حضرت ابو بکر نے حضرت عمرؓ اور حضرت ابو عبیدہ کو اس منصب کے لئے پیش کیا اور کہا کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کی بیعت کر لو مگر دونوں نے انکار کیا اور کہا کہ جسے رسول کریم علیہ نے نماز کا امام بنایا اور جوسب مہاجرین میں سے بہتر ہے ہم اس کی بیعت کریں گے۔مطلب یہ تھا کہ اس منصب کیلئے حضرت ابو بکر سے بڑھ کر اور کوئی شخص نہیں۔چنانچہ اس پر حضرت ابو بکر کی بیعت شروع ہو گئی۔پہلے حضرت عمر نے بیعت کی ، پھر حضرت ابو عبیدہ نے بیعت کی، پھر بشیر بن سعد خزرجی نے بیعت کی اور پھر اوس نے اور پھر ختنہ رج کے دوسرے لوگوں نے اور اسقدر جوش پیدا ہوا کہ سعد جو بیمار تھے اور اُٹھ نہ سکتے تھے ان کی قوم ان کو روندتی ہوئی آگے بڑھ کر بیعت کرتی تھی۔چنانچہ تھوڑی ہی دیر میں سعد اور حضرت علیؓ کے سوا سب نے بیعت کر لی۔حتی کہ سعد کے اپنے بیٹے نے بھی بیعت کر لی۔حضرت علی نے کچھ دنوں بعد بیعت کی۔چنانچہ بعض روایات میں تین دن آتے ہیں اور بعض روایات میں یہ ذکر آتا ہے کہ آپ نے چھ ماہ بعد بیعت کی۔چھ ماہ والی روایات میں یہ غذر بھی بیان ہوا ہے کہ حضرت فاطمہ کی تیمارداری میں مصروفیت کی وجہ سے