خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 73

خلافة على منهاج النبوة ۷۳ جلد اوّل پس تزکیہ نفوس کے لئے پہلی چیز دعا ہی ہے خدا کے محض فضل سے میں بہت دعائیں کرتا ہوں اور بہت کرتا ہوں تم بھی دعاؤں سے کام لو۔خدا تعالی زیادہ توفیق دے۔یہ بھی یاد رکھو کہ میری اور تمہاری دعاؤں میں فرق ہے جیسے ایک ضلع کے افسر کی رپورٹ کا اور اثر ہوتا ہے ، لیفٹیننٹ گورنر کا اور ، اور وائسرائے کا اور۔اسی طرح پر اللہ تعالیٰ جس کسی کو منصب خلافت پر سرفراز کرتا ہے تو اس کی دعاؤں کی قبولیت بڑھا دیتا ہے کیونکہ اگر اس کی دعائیں قبول نہ ہوں تو پھر اس کے اپنے انتخاب کی ہتک ہوتی ہے۔تم میرے لئے دعا کرو کہ مجھے تمہارے لئے زیادہ دعا کی توفیق ملے اور اللہ تعالیٰ ہماری ہر قسم کی سستی دور کر کے چستی پیدا کرے۔میں جو دعا کروں گا وہ اِنشَاءَ الله فردا فردا ہر شخص کی دعا سے زیادہ طاقت رکھے گی۔تزکیہ نفس کے متعلق کسی نے ایک لطیف بات بیان کی ہے اور وہ یہ ہے کہ ان تین باتوں کا نتیجہ يزكيهم ہوتا ہے یعنی قرآن مجید کی تلاوت کرے اور تَعْلِيمُ الكتب والحكمة کرے اس کے بعد اس جماعت میں تزکیہ پیدا ہو جائے گا۔پھر ایک اور بڑا ذریعہ تزکیہ نفوس کا ہے جو مسیح موعود علیہ السلام نے کہا ہے اور میرا یقین ہے کہ وہ بالکل درست ہے۔ہر ہر حرف اس کا سچا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر شخص جو قادیان نہیں آتا یا کم از کم ہجرت کی خواہش نہیں رکھتا اس کی نسبت شبہ ہے کہ اس کا ایمان درست ہو۔عبد الحکیم کی نسبت یہی فرمایا کرتے تھے کہ وہ قادیان نہ آتا تھا۔قادیان کی نسبت اللہ تعالیٰ ن إِنَّهُ أَوَى الْقَرْيَةَ؟ " فرمایا۔یہ بالکل درست ہے کہ یہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ والی برکات نازل ہوتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی فرماتے ہیں۔زمین قادیاں اب محترم ہجوم خلق ارض حرم ہے ہے جب خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے، ۲۲ تو پھر جہاں وہ پیدا ہوا ، جس زمین پر چلتا پھرتا رہا اور آخر دفن ہوا کیا وہاں برکت نازل نہ ہوگی !