خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 72

خلافة على منهاج النبوة ۷۲ جلد اول تعداد ہے آج ہی معلوم ہوا ہے اور اب اِنشَاءَ اللہ میں خود بھی ان تمام اشتہارات کو پڑھوں گا۔پس ضرورت ہے کہ علماء کی ایک جماعت ہو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں پڑھ کر عقائد کے متعلق ایک نتیجہ نکال کر ایک رسالہ میں انہیں جمع کریں۔وہ تمام عقائد جماعت کو دیے جاویں اور سب انہیں پڑھیں اور یاد رکھیں۔یہ اختلاف جو عقائد کے متعلق پیدا ہوتا ہے انشاء الله بالکل مٹ جاوے گا۔سب کا ایک ہی عقیدہ ہوگا اور اگر پھر اختلاف ہوگا بھی تو نہایت ہی خفیف ہوگا۔تفرقہ نہ ہوگا جیسے اب ہوا۔میں یہ بھی کہتا ہوں کہ اس وقت بھی جو اختلاف ہوا وہ عقائد کی وجہ سے نہیں کفر و اسلام کا بہانہ ہے۔احمدی اور غیر احمدی کے سوال کو خلافت سے کیا تعلق۔اگر یہ سوال حل ہو جائے تو کیا یہ معترض خلافت کو مانیں گے؟ کبھی نہیں۔یہ تو غیر احمدیوں کی ہمدردی کو حاصل کرنے اور بعض احمد یوں کو بھڑ کانے کے لئے ہے بھلا خیال تو کرو کہ دو میاں بیوی یا بھائی بھائی اگر آپس میں لڑ کر ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں کہ ہمارے ہمسایہ کا کیا مذہب ہے تو یہ عقلمندی ہوگی ؟ نہیں یہ مسئلہ صرف ایک آڑ ہے۔میری خواہش میرا دل چاہتا ہے کہ ان خواہشوں کی تکمیل میرے وقت میں ہو جاوے یہ اتحاد کے لئے بڑی ضروری ہیں اگر خدا تعالیٰ نے چاہا جیسا کہ میں اپنے خدا پر بڑی بڑی امیدیں رکھتا ہوں تو سب کچھ ہو جائے گا۔تعلیم شرائع کا انتظام بھی ہو جاوے گا اور حکمت بھی سکھائیں گے اور یہ ساری باتیں قرآن شریف سے ہی إِنْشَاءَ الله بتا دیں گے۔تزکیه نفوس ان امور کے بعد اب تزکیہ نفس ہے میں نے کہا ہے کہ قرآن مجید سے اور سورہ بقرہ کی ترتیب سے معلوم ہوتا ہے کہ تزکیہ نفوس کے لئے سے بڑا ہتھیار ، نا قابل خطا ہتھیار دعا ہے۔نماز بھی دعا ہے۔سورہ بقرہ جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کام تزکیہ بتایا ہے اسے بھی دعا پر ہی ختم کیا ہے اور نماز کے آخری حصہ میں بھی دعائیں ہی ہیں۔