خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 51
خلافة على منهاج النبوة ۵۱ جلد اول وَمَن يُؤْتَ الحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيراً فرما کر یہ اشارہ فرما دیا کہ لو تیسرا وعدہ بھی پورا ہو گیا۔اس رسول نے حکمت کی باتیں بھی سکھا دی ہیں۔مثلاً طالوت کا واقعہ بیان فرمایا کہ اُنہوں نے حکم دیا کہ نہر سے کوئی پانی نہ پیئے اور پینے والے کو ایسی سزا دی کہ اسے اپنے سے علیحدہ کر دیا اور بتایا کہ جب کوئی شخص چھوٹا حکم نہیں مان سکتا تو اس نے بڑے بڑے حکم کہاں ماننے ہیں۔اور یہ بھی بتایا کہ جس وقت جنگ ہو اُس وقت حاکم کی کیسی اطاعت کرنی چاہیے۔اس میں یہ بھی بتایا کہ خلفاء پر اعتراض ہوا ہی کرتا ہے اور آخر اللہ تعالیٰ ان کو غلبہ دیتا ہے۔ان حکموں کے بتانے کے بعد تزکیہ رہ گیا تھا۔اس کے لئے یہ انتظام فرمایا کہ اس سورۃ کو دعا پر ختم کیا ہے جس میں یہ بتایا ہے کہ تزکیہ کا طریق دعا ہے۔نبی بھی دعا کرے اور جماعت کو بھی دعا کی تعلیم دے۔آپ لوگ اس سورۃ کو اب پڑھ کر دیکھیں جس ترتیب سے آیت مذکورہ میں الفاظ ہیں اسی ترتیب سے اس سورۃ میں آیات اور کتاب اور حکمت اور طریق تزکیہ بیان فرمایا ہے۔پس یہ آیت اس سورۃ کی کنجی ہے جو اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھ میں دی ہے۔الغرض نبی کا کام بیان فرما یا تبلیغ کرنا ، کافروں کو مؤمن کرنا ، مؤمنوں کو شریعت پر قائم کرنا، پھر بار یک در باریک راہوں کا بتانا ، پھر تزکیۂ نفس کرنا۔یہی کام خلیفہ کے ہوتے ہیں۔اب یا درکھو کہ اللہ تعالیٰ نے یہی کام اس وقت میرے رکھے ہیں۔آیات اللہ کی تلاوت میں اللہ تعالیٰ کی ہستی پر دلائل ، ملائکہ پر دلائل ، ضرورتِ نبوت اور نبوت محمدیہ کے دلائل ، قرآن مجید کی حقیت پر دلائل ، اور ضرورتِ الہام و وحی پر دلائل ، جزاء وسزا اور مسئلہ تقدیر پر دلائل ، قیامت پر دلائل شامل ہیں۔یہ معمولی کام نہیں اس زمانہ میں اس کی بہت بڑی ضرورت ہے اور یہ بہت بڑا سلسلہ ہے۔پھر يُعَلِّمُهُمُ الكتب دوسرا کام ہے بار بار شریعت پر توجہ دلائے اور احکام و اوا مرالہی کی تعمیل کے لئے یاد دہانی کراتا ر ہے۔جہاں سستی ہو اس کا انتظام کرے۔اب تم خود غور کرو کہ یہ کام کیا چند کلرکوں کے ذریعہ ہو سکتے ہیں اور کیا خلیفہ کا اتنا ہی کام رہ جاتا ہے کہ وہ چندوں کی نگرانی کرے؟ اور دیکھ لے کہ دفتر محاسب ہے، اس میں چندہ آتا ہے اور