خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 47

خلافة على منهاج النبوة دوسرا کام ۴۷ جلد اول پھر دوسرا فرض نبی یا خلیفہ کا اس آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے ويُعَلِّمُهُمُ الكتب ان کو کتاب سکھا دے۔انسان جب اس بات کو مان لے کہ اللہ تعالیٰ ہے اور اس کی طرف سے دنیا میں رسول آتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ملائکہ ان پر اُترتے ہیں اور ان کے ذریعہ کتب الہیہ نازل ہوتی ہیں تو اس کے بعد دوسرا مرحلہ اعمال کا آتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ پر ایمان لا کر دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے آدمی کو اب کیا کرنا چاہیے۔اس ضرورت کو پورا کرنے والی آسمانی شریعت ہوتی ہے اور نبی کا دوسرا کام یہ ہے کہ ان کو مسلموں کو شریعت سکھائے۔ان ہدایات اور تعلیمات پر عمل ضروری ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کے رسولوں کی معرفت آتی ہیں۔پس اس موقع پر دوسرا فرض نبی کا یہ بتایا گیا ہے کہ وہ انہیں فرائض کی تعلیم دے۔کتاب کے معنی شریعت اور فرض کے ہیں۔جیسے قرآن مجید میں یہ لفظ فرض کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے جیسے کتب عَلَيْكُمُ الصیام کے پس اس ترتیب کو خوب یا درکھو کہ پہلا کام اسلام میں لانے کا تھا۔دوسرا ان کو شریعت سکھانے اور عامل بنانے کا۔عمل کے لئے ایک اور بات کی ضرورت ہے اُس وقت تک انسان کے اندر تیسرا کام کسی کام کے کرنے کے لئے جوش اور شوق پیدا نہیں ہوتا جب تک اسے اس کی حقیقت اور حکمت سمجھ میں نہ آ جائے۔اس لئے تیسرا کام یہاں یہ بیان کیا والحكمة اور وہ ان کو حکمت کی تعلیم دے۔یعنی جب وہ اعمال ظاہری بجالانے لگیں تو پھر ان اعمال کی حقیقت اور حکمت سے انہیں باخبر کرے جیسے ایک شخص ظاہری طور پر نماز پڑھتا ہے۔نماز پڑھنے کی ہدایت اور تعلیم دینا یہ يُعَلِّمُهُمُ الکتب کے نیچے ہے۔اور نماز کیوں فرض کی گئی ، اس کے کیا اغراض و مقاصد ہیں؟ اس کی حقیقت سے واقف کرنا یہ تعلیم الحکمۃ ہے۔ان دونوں باتوں کی مثال خود قرآن شریف سے ہی دیتا ہوں۔قرآن شریف میں حکم ب أَقِيمُوا الصلوة کے نمازیں پڑھو ، یہ حکم تو گویا يُعَلِّمُهُمُ الكتب کے ماتحت ہے۔ایک جگہ یہ فرماتا ہے۔اِنَّ الصَّلوة تنهى عَنِ الْفَحْشَاء وَالمُنكَرِ یعنی نماز بدیوں اور نا پسند باتوں سے روکتی ہے۔یہ نماز کی حکمت بیان فرمائی کہ نماز کی غرض کیا ہے۔اسی طرح