خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 46
خلافة على منهاج النبوة ۴۶ جلد اول اس لئے میں اُسی کے حضور جھکا اور درخواست کی کہ آپ ہی مجھے بتائیں اِن لوگوں کو جو جمع ہوئے ہیں کیا کہوں۔اُس نے میرے قلب کو اسی آیت کی طرف متوجہ کیا اور مجھ پر ان حقائق کو کھولا جو اس میں ہیں۔میں نے دیکھا کہ خلافت کے تمام فرائض اور کام اس آیت میں بیان کر دیئے گئے ہیں تب میں نے اسی کو اس وقت تمہارے سامنے پڑھ دیا۔لَا خِلَافَةَ إِلَّا بِالْمَشْوَرَةِ میرا مذہب ہے لَا خِلَافَةَ إِلَّا بِالْمَشْوَرَةِ خلافت جائز ہی نہیں جب تک اس میں شوری نہ ہو۔اسی اصول پر تم لوگوں کو یہاں بلوایا گیا ہے اور میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اس پر قائم ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اس پر قائم رہوں۔میں نے چاہا کہ مشورہ لوں مگر میں نہیں جانتا تھا کہ کیا مشورہ لوں۔میرے دوستوں نے کہا کہ مشورہ ہونا چاہیے میں نے اس کی تصریح نہیں پوچھی۔میں چونکہ مشورہ کو پسند کرتا ہوں اس لئے ان سے اتفاق کیا اور انہوں نے آپ کو بلا لیا مگر مجھے کل تک معلوم نہ تھا کہ میں کیا کہوں آخر جب میں نے خدا کے حضور توجہ کی تو یہ آیت میرے دل میں ڈالی گئی کہ اسے پڑھو۔تفسیر دعائے ابراہیم اس آیت کی تلاوت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی یا خلیفہ کا پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ آیات اللہ لوگوں کو سنائے۔آیت کہتے ہیں نشان کو ، دلیل کو جس سے کسی چیز کا پتہ لگے۔پس نبی جو آیات اللہ پڑھتا ہے اس سے یہ مراد ہے کہ وہ ایسے دلائل سناتا اور پیش کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اُس کی تو حید پر دلالت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فرشتوں، رسولوں اور اس کی کتب کی تائید اور تصدیق ان کے ذریعہ ہوتی ہے۔پس اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو ایسی باتیں سنائے جن سے ان کو اللہ پر اور نبیوں اور کتب پر ایمان حاصل ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ نبی اور اس کے جانشین خلیفہ کا پہلا کام تبلیغ الحق اور دعوت اِلَى الخَیرِ ہوتی ہے۔وہ سچائی کی طرف لوگوں کو بلا تا ہے اور اپنی دعوت کو پہلا کام دلائل اور نشانات کے ذریعہ مضبوط کرتا ہے۔دوسرے لفظوں میں یہ کہو کہ وہ تبلیغ کرتا ہے۔۔