خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 35
خلافة على منهاج النبوة ۳۵ جلد اول یا کم سے کم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خلیفہ ایک پریذیڈنٹ کی حیثیت میں ہو اور یہ کہ ابھی تک جماعت کا کوئی خلیفہ نہیں ہوا۔مگر میں اس اعلان کے ذریعہ سے تمام جماعت کو اطلاع دیتا ہوں کہ خلیفہ کا ہونا ضروری ہے جیسا کہ میں ثابت کر چکا ہوں اور اس کی بیعت کی بھی اسی طرح ضرورت ہے جس طرح حضرت خلیفہ اول کی تھی اور یہ بات بھی غلط مشہور کی جاتی ہے کہ جماعت کا اس وقت تک کوئی خلیفہ مقرر نہیں ہوا بلکہ خدا نے جسے خلیفہ بنانا تھا بنا دیا اور اب جو شخص اس کی مخالفت کرتا ہے وہ خدا کی مخالفت کرتا ہے۔میں نے کسی سے درخواست نہیں کی کہ وہ میری بیعت کرے نہ کسی سے کہا کہ وہ میرے خلیفہ بننے کے لئے کوشش کرے۔اگر کوئی شخص ایسا ہے تو وہ علی الاعلان شہادت دے کیونکہ اس کا فرض ہے کہ جماعت کو دھوکے سے بچائے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ خدا کی لعنت کے نیچے ہے اور جماعت کی تباہی کا عذاب اُس کی گردن پر ہو گا۔اے پاک نفس انسا نو ! جن میں بدظنی کا مادہ نہیں میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے کبھی انسان سے خلافت کی تمنا نہیں کی اور یہی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے بھی کبھی یہ خواہش نہیں کی کہ وہ مجھے خلیفہ بنادے یہ اُس کا اپنا فعل ہے یہ میری درخواست نہ تھی۔میری درخواست کے بغیر یہ کام میرے سپر د کیا گیا ہے اور یہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے کہ اس نے اکثروں کی گردنیں میرے سامنے جُھکا دیں میں کیونکر تمہاری خاطر خدا تعالیٰ کے حکم کو ر ڈ کر دوں۔مجھے اُس نے اسی طرح خلیفہ بنایا جس طرح پہلوں کو بنایا تھا۔گو میں حیران ہوں کہ میرے جیسا نالائق انسان اُسے کیونکر پسند آ گیا لیکن جو کچھ بھی ہو اُس نے مجھے پسند کر لیا اور اب کوئی انسان اس گر تہ کو مجھ سے نہیں اُتار سکتا جو اُس نے مجھے پہنایا ہے۔یہ خدا کی دین ہے اور کون سا انسان ہے جو خدا کے عطیہ کو مجھ سے چھین لے۔خدا تعالیٰ میرا مددگار ہوگا۔میں ضعیف ہوں مگر میرا مالک بڑا طاقتور ہے، میں کمزور ہوں مگر میرا آقا بڑا تو انا ہے، میں بلا اسباب ہوں مگر میرا بادشاہ تمام اسبابوں کا خالق ہے، میں بے مددگار ہوں مگر میرا رب فرشتوں کو میری مدد کیلئے نازل فرمائے گا۔(إِنشَاءَ الله ) میں بے پناہ ہوں مگر میرا محافظ وہ ہے جس کے ہوتے ہوئے کسی پناہ کی ضرورت نہیں۔لوگ کہتے ہیں میں جھوٹا ہوں اور یہ کہ میں مدتوں سے بڑائی کا طلبگار تھا اور فخر میں مبتلا