خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 465
خلافة على منهاج النبوة جلد اول ان دو ہزار کے قریب آدمیوں میں سے جو اُس وقت وہاں موجود تھے صرف پچاس کے قریب آدمی ہوں گے جو بیعت سے باز رہے۔باقی سب لوگ بیعت میں داخل ہوئے اس کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کا جنازہ پڑھایا گیا۔بیعت ہوگئی اور اس سے زیادہ لوگوں نے بیعت کی جنہوں نے حضرت خلیفہ المسیح الاول کی بیعت کی تھی اور اس سے زیادہ مجمع نے بیعت پر اتفاق کیا جتنے مجمع نے کہ حضرت خلیفہ اول کی بیعت پر اتفاق کیا تھا مگر باوجود اس کے مولوی صاحب اور آپ کے رفقاء کی تسلی نہ ہوئی اور انہوں نے اس سب کا رروائی کو منصوبہ قرار دیا۔اور تمام جماعت کو اطلاع دی گئی کہ خلافت کا فیصلہ کوئی نہیں ہوا۔قادیان میں جو کارروائی ہوئی سب دھوکا اور سازش کا نتیجہ تھی۔پیغام کی غلط بیانیاں مخالفت کا جوش اس قدر بڑھ گیا کر جھوٹ کا پر ہیز بالکل جاتا آدمیوں نے پڑھا۔۲۸ رہا خود پیغام لکھتا ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح کا جنازہ اڑھائی ہزار اور پھر یہی پیغام لکھتا ہے کہ :۔وہ لوگ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت طلایی امسیح کی آنکھیں دیکھی ہوئی تھیں انہوں نے اس قسم کی بیعت سے احتراز کیا اور حاضر الوقت جماعت میں سے نصف کے قریب لوگوں نے بیعت نہ کی۔۲۹ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفتہ المسیح کے صحبت یافتہ لوگوں میں سے کسی نے بیعت نہ کی۔اور جو لوگ قادیان میں موجود تھے ان میں سے نصف نے انکار کر دیا۔مگر حق یہ ہے کہ پچاس سے زائد آدمی نہ تھے جنہوں نے بیعت سے اجتناب کیا اور اس دو یا بقول پیغام اڑھائی ہزار آفرمیوں میں سے نصف سے زیادہ وہ لوگ تھے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلیفہ المسیح الاوّل کی صحبت حاصل کی ہوئی تھی۔قادیان کے مہاجرین میں سے جن کی تعداد تین چار سو سے کم نہ تھی کل چار پانچ آدمی بیعت سے رہا ہر رہے اور یہ لوگ پیغام کی نظر میں گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ اسیح کے صحبت یافتہ ہی نہ تھے مرزا یعقوب بیگ صاحب سیکرٹری احمدیہ انجمن اشاعت اسلام