خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 464
خلافة على منهاج النبوة ۴۶۴ جلد اول جب فیصلہ سے مایوسی ہوئی تو میں نے مولوی محمد علی صاحب سے کہا کہ چونکہ ہمارے نزد یک خلیفہ ہونا ضروری ہے اور آپ کے نزدیک خلیفہ کی ضرورت نہیں اور یہ ایک مذہبی امر ہے اس لئے آپ کی جو مرضی ہو کر میں ہم لوگ جو خلافت کے قائل ہیں اپنے طور پر ا کٹھے ہو کر اس امر کے متعلق مشورہ کر کے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لیتے ہیں۔یہ کہ کر میں اُٹھ کھڑا ہوا اور مجلس برخواست ہوئی۔عصر کی نماز کا وقت تھا۔عصر کی نماز پڑھ کر ڈیڑھ ہزار سے دو ہزار خلیفہ کا انتخاب تک آدمیوں کے مجمع میں مکرمی خان محمد علی خان صاحب جاگیردار مالیر کوٹلہ نے بحیثیت حضرت خلیفہ اول کے وصی ہونے کے مجلس میں آپ کی وصیت پڑھ کر سنائی اور لوگوں سے درخواست کی کہ وہ آپ کی وصیت کے مطابق کسی شخص کو آپ کا جانشین تجویز کریں۔اس پر لوگوں نے میرا نام لیا۔جس کے بعد مولوی محمد احسن صاحب نے کھڑے ہو کر ایک تقریر کی اور کہا کہ میرے نزدیک بھی یہی خلیفہ ہونے چاہئیں۔اس پر لوگوں نے شور کیا کہ بیعت لی جاوے۔میں نے اس امر میں پس و پیش کیا اور باوجو دلوگوں کے اصرار کے انکار کیا۔مگر لوگوں کا جوش اسی طرح زور پر تھا جس طرح حضرت ابو بکر کے وقت میں۔اور وہ ایک دوسرے پر ٹوٹے پڑتے تھے اور بعض لوگوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچا کہ آپ بیعت لیں۔میں نے پھر بھی پس و پیش کیا تو بعض لوگوں نے جو قریب بیٹھے تھے اصرار کیا کہ جماعت کی حفاظت اور بچاؤ کے لئے آپ ضرور بیعت لیں۔اور میں نے دیکھا کہ لوگ بیعت کے جوش سے اس قدر بھرے ہوئے تھے اور آگے کی طرف بڑھ رہے تھے کہ میں پالکل آدمیوں میں چھپ گیا اور بعض لوگ ہمت کر کے میری پیٹھ کے پیچھے حلقہ نہ بنا لیتے تو قریب تھا کہ میں کچلا جاتا۔مجھے بیعت کے الفاظ یاد نہ تھے اور میں نے اسی بات کو عذر بنانا چاہا اور کہا کہ مجھے بیعت کے الفاظ یاد نہیں ہیں۔اس پر مولوی سید سرور شاہ صاحب نے کہا کہ میں الفاظ بیعت دُہرا تا جاؤں گا آپ بیعت لیں۔تب میں نے سمجھا کہ خدا تعالیٰ کا یہی منشاء ہے اور اس کے منشاء کو قبول کیا اور لوگوں سے بیعت لی اور جو ازل سے مقدر تھا با وجود میرے پہلو تہی کرنے کے ظہور میں آیا۔