خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 460
خلافة على منهاج النبوة ۴۶۰ جلد اوّل مندرجہ رسالہ الوصیت جماعت کا خلیفہ تسلیم کر کے اس بارے میں اعلان کر چکے ہیں ( دیکھو اخبار بدر پر چه ۲ / جون ۱۹۰۸ جلد ۷ نمبر ۲۲ صفحه ۶ ) کہ سب احمدی ان کی بیعت کریں۔آج لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وصیت میں کہیں خلافت کا ذکر ہی نہیں اور آپ نے خلفاء کے لئے احمدی جماعت سے بیعت لینے کی اجازت ہی نہیں دی۔غرض جبکہ بعض لوگوں نے جماعت کا رجحان معلوم کرنے کیلئے دستخط دیکھا کہ مولوی محمد علی صاحب نے نہ صرف یہ کہ ہم سے دھوکا کیا ہے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خلیفہ المسیح کی وصایا کی بھی بے قدری کی ہے اور جماعت میں اختلاف ڈلوانا چاہا ہے اور لوگوں سے اپنی تحریر پر رائیں بھی طلب کی ہیں تو انہوں نے بھی ایک تحریر لکھ کر تمام آنے والے احباب میں اس غرض سے پھرائی کہ جماعت کا عندیہ معلوم ہو جاوے اور جو لوگ ان کے خیالات سے متفق تھے ان سے دستخط چاہے تا معلوم ہو کہ جماعت کا رُجحان کدھر ہے۔چنانچہ ان دستخطوں سے معلوم ہوا کہ موجودہ جماعت کا نوے فیصدی سے بھی زیادہ حصہ اس بات پر متفق تھا کہ خلیفہ ہونا چاہئے اور وہ بھی اسی رنگ میں جس رنگ میں کہ حضرت خلیفہ اول تھے۔مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء اسے سازش قرار دیتے ہیں لیکن کیا لوگوں کی رائے دریافت کرنی سازش ہے ؟ کیا وہ اپنے ٹریکٹ میں اس سے پہلے جماعت سے رائے طلب نہیں کر چکے تھے ؟ کیا خود انہوں نے ہی یہ دروازہ نہیں کھولا تھا ؟ پس جس دروازہ کو وہ ول چکے تھے اس میں سے مجبوراً آکر دوسروں کو گزرنا پڑا تو اس پر کیا اعتراض ہے بلکہ مولوی صاحب کے طریق عمل اور دوسرے فریق کے طریق عمل میں یہ فرق ہے کہ اُنہوں نے اس دروازہ کے کھولنے میں دھوکے سے کام لیا اور اس نے علی الاعلان حق کی راہ پر چل کر اس کا رُخ کیا انہوں نے بھی لوگوں سے اپنے خیال پر رائے مانگی دوسرے فریق نے بھی اپنی رائے کی تصدیق چاہی۔مہمانوں کی آمد کا انتظار ہفتہ کے دن برابر مہمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا اور اس بات کا انتظار کیا گیا کہ کافی آدمی پہنچ جاویں