خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 459

خلافة على منهاج النبوة ۴۵۹ جلد اول دھوکا دے رہے تھے۔ان کا جسم اس کے پاس تھا مگر ان کی روح اس سے بہت دور اپنے خیالات کی اُدھیڑ بن میں تھی۔اور انہوں نے وہاں سے اُٹھ کر غالبا سب سے پہلی تحریر جو لکھی وہ وہی تھی جس میں اس وصیت کے خلاف جماعت کو اُکسایا گیا تھا اور گو مخاطب اس میں مجھے یا اور بعض گمنام شخصوں کو کیا گیا تھا مگر در حقیقت اس وصیت کی دھجیاں اُڑائی گئی تھیں جس کی تصدیق چند ساعت پہلے وہ اپنے مرشد و ہادی کے بستر مرگ کے پاس نہایت سنجیدگی کے ساتھ کر چکے تھے۔مولوی محمد علی صاحب یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کی وہ تحریر اس وصیت سے پہلے کی تھی۔کیا اگر وہ پہلے کی تھی تو کیا وہ اس کو واپس نہیں منگوا سکتے تھے ؟ کیا وصیت کے بعد کافی عرصہ اس کے واپس منگوانے کا ان کو نہیں ملا ؟ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ان کے ٹریکٹ میں یہ لکھا ہوا موجود ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرما دیا ہے کہ ان کا ایک جانشین ہو۔مولوی محمد علی صاحب صرف ایک بہانہ بناتے ہیں اور وہ یہ کہ حضرت طریقہ اسیح کا جانشین سے یہ مطلب تھا کہ ایک ایسا شخص جماعت میں سے چنا جاوے جس کے حکموں کی قدر کی جاوے۔لیکن ان کی یہ تشریح جھوٹی تشریح ہے۔وہ قسم کھا کر بتا دیں کہ کیا حضرت خلیفہ امسیح کا یہ مذہب نہ تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلیفہ ہیں اور آپ کی بیعت بطور خلیفہ کے کئی گئی ہے نہ کہ بطور بڑے صوفی اور بزرگ ہونے کے اور یہ کہ ان کے بعد بھی اسی قسم کے خلفاء ہوں گے۔مگر وہ ایسا کبھی نہیں کر سکتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ انہوں نے غلط بیانی سے کام لیا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی شائع شدہ تقریر میں کثرت سے اس امر پر شاہد ہیں۔مولوی محمد علی صاحب کا یہ فعل واقعہ میں حیرت میں ڈال دینے والا ہے لیکن جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وصیت کو بھی پس پشت ڈال دیا ہے تو ان کے اس فعل پر زیادہ حیرت نہیں رہتی۔کیونکہ باوجود اس کے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر حضرت مولوی نورالدین کو ” مطابق فرمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وو