خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 455

خلافة على منهاج النبوة ۴۵۵ جلد اول محمد علی صاحب کی نسبت کیا سمجھوں جو شخص دو دن پہلے مجھے اس امر کے اعلان سے کہ اختلافی مسائل پر آپس میں اُس وقت تک بحث نہ کرو کہ کوئی نگران تم میں موجود ہو اس لئے روکتا تھا کہ اس سے لوگوں کو ابتلاء آجائے گا اور وہ خیال کریں گے کہ ہمارا آپس میں اختلاف ہے وہ اس سے ایک ہفتہ پہلے خود ایک ٹریکٹ اختلافی مسائل پر لکھ کر اور چھپنے اور شائع کئے جانے کیلئے لاہور بھیج چکا تھا۔کیا یہ فعل تقویٰ کا فعل تھا ؟ کیا اس جواب میں صداقت کا کوئی پہلو تھا ؟ کیا یہ صریح مغالطہ رہی نہ تھی ؟ کیا یہ ایک پالیسی نہ تھی ؟ کیا مولوی محمد علی صاحب کے اس فعل میں خدا تعالیٰ کے خوف کو پس پشت نہ ڈال دیا گیا تھا ؟ ہاں کیا ان کا یہ طریق عمل اسی تعلیم کے ماتحت تھا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔جس کا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے۔جس کی طرف مسیح موعود علیہ السلام نے رہنمائی کی ہے۔جس پر عمل درآمد کرنے کے لئے انہوں نے حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے ہاتھ پر دوبارہ عہد کیا تھا۔مولوی محمد علی صاحب کی غرض صرف وقت گزار نے کی تھی۔ان کی غرض مجھے روکنے سے جماعت کو ابتلاء سے بچانا نہیں اس کو ابتلاء میں ڈالنا تھی۔کیونکہ کیا وہ اس سے پہلے اختلافی مسائل پر ایک ٹریکٹ لکھ کر اسے خفیہ خفیہ طبع ہونے کے لئے لا ہور نہیں بھیج چکے تھے ؟ کیا جماعت کو اختلافی بحثوں میں پڑنے سے روکنے پر تو اس کو علم ہو جاتا تھا کہ ہم میں آپس میں اختلاف ہے اور اس کے ابتلاء میں پڑ جانے کا ڈر تھا لیکن خود اختلافی مسائل پر ٹریکٹ لکھنے جماعت کے ایک حصہ کو غیر متقی قرار دینے پر سازشوں کا الزام لگانے سے کسی فتنہ اور ابتلاء کا ڈر نہ تھا اور نہ کسی کو اس ٹریکٹ کے پڑھنے سے اندرونی اختلاف کا علم ہوسکتا تھا ؟ مولوی صاحب جانتے تھے کہ اگر انہوں نے اس ٹریکٹ پر دستخط کر دیئے تو دنیا ان سے دریافت کرے گی کہ خود انہوں نے کیوں ایسا ٹریکٹ لکھ کر شائع کیا تھا اور ان سے کہے گی کہ اناً مُرُونَ النَّاس بالبروتنسون آنفُسَكُمْ ٧ لیکن دوسری طرف وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اس اشتہار کے مضمون میں جو میں شائع کرنا چاہتا تھا کوئی ایسی بات نہ تھی جس پر وہ گرفت کر سکیں۔پس انہوں نے اُس وقت اس بہانہ سے اپنی جان بچانی چاہی۔اگر و وہ دیانتداری سے کام لیتے تو اگر وہ اشتہار کے مضمون سے متفق تھے جیسا کہ اس وقت