خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 454

خلافة على منهاج النبوة ۴۵۴ جلد اول اور نماز تہجد ادا کرنے کی تیاری کی۔ابھی میں وضو کر رہا تھا کہ ایک شخص نے میرے ہاتھ میں ایک ٹریکٹ دیا اور کہا کہ یہ ٹریکٹ تمام راستہ میں بیرونجات سے آنے والے احمدیوں میں تقسیم کیا گیا ہے جب میں نے اُس ٹریکٹ کو دیکھا تو وہ مولوی محمد علی صاحب کا لکھا ہوا تھا اور اس میں جماعت کو اُکسایا گیا تھا کہ آئندہ خلافت کا سلسلہ نہ چلے اور یہ کہ حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل کی بیعت بھی انہوں نے بطور خلیفہ کے نہ کی تھی بلکہ بطورا یک پیر اور صوفی کے۔اور یہ کہ مولوی محمد علی صاحب کو معلوم نہیں کہ کون خلیفہ ہو گا بلکہ صرف بطور خیر خواہی کے وہ کہتے ہیں کہ آئندہ خلیفہ نہ مقرر ہو اور یہ کہ میاں صاحب ( یعنی مصنف رسالہ ) غیر احمد یوں کو کا فرکہتا ہے اور یہ درست نہیں اور تقویٰ کے خلاف ہے اور یہ کہ اگر کوئی شخص جماعت کا سر بر آوردہ بنایا جاوے تو وہ ایسا شخص ہونا چاہئے جو غیر احمدیوں کو کافر نہ کہتا ہو۔کیونکہ حضرت خلیفۃ المسیح کا جانشین متقی ہونا چاہئے اور غیر احمدیوں کو کافر کہنے والا متقی نہیں۔اور میں اہل بیت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دیگر صحابہ کا خیر خواہ اور ان کا احترام کرنے والا ہوں۔یہ مضمون جو کچھ ظاہر کرتا ہے اس پر اس جگہ کچھ لکھنے کی مجھے ضرورت نہیں۔ہر ایک شخص ادنی تامل سے اس مضمون کا بین السطور مدعا خود سمجھ سکتا ہے۔مولوی محمد علی صاحب کی جس وقت یہ ٹریکٹ میں نے دیکھا میں حیران ہو گیا اور میری حیرت کی کوئی حد نہ رہی کیونکہ ابھی دو دن نہ مغالطہ دہی کا انکشاف گزرے تھے کہ میرے اس ارادہ پر کہ جماعت میں اعلان کیا جاوے کہ اختلافی مسائل میں اُس وقت تک بحث نہ کریں جب تک کوئی سردار ہم میں ایسا نہ ہو جو نگرانی کر سکے اور افراط اور تفریط کو روک سکے۔مولوی محمد علی صاحب نے یہ مشورہ دیا تھا کہ چونکہ بیرونجات کے لوگ ان جھگڑوں سے ہی نا واقف ہیں اس لئے ان کو اس اشتہار سے ابتلاء آئے گا اور آج اس ٹریکٹ سے معلوم ہوا کہ نہ صرف اشتہار بلکہ ایک ٹریکٹ لکھ کر مولوی محمد علی صاحب پہلے سے لاہور چھپنے کے لئے بھیج چکے تھے اور نہ صرف اسے خود شائع کرانے کا ارادہ تھا بلکہ اس کے اوپر تمام احمد یوں کو ہدایت لکھی گئی تھی کہ وہ اس ٹریکٹ کو دوسروں تک پہنچا دیں۔یہ بات میری سمجھ سے بالا تھی اور میں حیران تھا کہ میں مولوی