خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 444
خلافة على منهاج النبوة ۴ ۴ ۴ جلد اول دے کہ یہ اپنی شرارتوں میں کھیلتے رہیں۔اس آیت میں کہیں بھی یہ ذکر نہیں کہ خدا کو منوا کر چھوڑ دو۔اس میں تو یہ بتایا گیا ہے کہ یہود کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے بندہ پر کبھی الہام نازل نہیں کیا۔اس کے جواب میں تو ان سے پوچھ کہ موسیٰ کی کتاب کس نے نازل کی تھی؟ اور پھر اپنی طرف سے کہہ دے کہ وہ خدا تعالیٰ نے نازل کی تھی اور چونکہ یہ جواب ان کے عقیدہ کے مطابق ہے اور یہ اس کا جواب کچھ نہیں دے سکتے اس لئے اس جواب کے بعد اس مسئلہ پر زیادہ گفتگو کرنے کی ضرورت نہیں پھر ان کو چھوڑ دو کہ دین پر ہنسی کرتے ہیں۔عربی زبان کے مطابق مولوی محمد علی صاحب کے کئے ہوئے معنی کسی طرح جائز نہیں۔خودان کے شائع کردہ ترجمہ قرآن میں بھی یہ معنی نہیں کئے گئے بلکہ وہی معنی کئے گئے ہیں جو میں نے لکھے ہیں۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں۔And they do not assign to Allah the attributes due to Him, when they say: Allah has not revealed any thing to a mortal۔say: who revealed the Book which moses brought a light, and a guidance to men, which you make into scattered writing, which you show, while you conceal much? And you were taught did not know, (neither) you nor your fathers۔say: Allah what then leave them sporting in their vain discourses۔you p 30 اگر وہ معنی درست ہوتے جو مولوی صاحب نے اس رسالہ میں لکھے ہیں تو کیوں وہ قرآن کریم میں وہ ترجمہ نہ لکھتے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یا تو وہ پہلے سے جانتے تھے کہ یہ ترجمہ غلط ہے اور محض دھوکا دینے کیلئے انہوں نے اس رسالہ میں غلط معنی کر دیئے ہیں اور یا یہ کہ اعتراضوں سے گھبرا کر انہوں نے اپنے ترجمہ میں چھپنے سے پہلے تبدیلی کر دی۔ان کا خود ان معنوں کو غلط تسلیم کر لینا اس امر سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس کے بعد کفر و اسلام کے متعلق انہوں نے متعد دتحریروں میں بحث کی ہے مگر کبھی اس آیت سے پھر استدلال نہیں کیا۔غرض ایسے غلط معنی حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی طرف کبھی منسوب نہیں کئے جا سکتے اور نہ یہ