خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 443
خلافة على منهاج النبوة ۴۴۳ جلد اول پس حضرت خلیفہ اسی الاول کے اس فتوی کی موجودگی میں اور خود اس فتوی کے صریح باطل ہونے کے باوجود کون شخص خیال کر سکتا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب نے یہ مضمون حضرت خلیفہ اسیح کے لکھوائے ہوئے نوٹوں کے مطابق لکھا ہے اور آپ کی پسندیدگی کے بعد شائع کیا ہے۔دوسری اندرونی شہادت یہ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب نے اپنے دوسری شہادت اس رسالہ میں قرآن کریم کی ایک آیت کے ایسے غلط معنی کئے ہیں کہ وہ عربی زبان کے قواعد کے بالکل خلاف ہیں اور حضرت خلیفۃ المسیح کے کئے ہوئے معنوں کے بھی خلاف ہیں بلکہ ایک رنگ میں ان کی تردید حضرت خلیفہ المسیح نے کی ہے۔مولوی محمد علی صاحب لکھتے ہیں۔وو 1966 " قُلِ اللهُ ثُمَّ ذَرْهُمْ لا یعنی اللہ منوا کر ان کو چھوڑ دو۔19 یعنی آیت قل اللهم رحم کے یہ معنی ہیں کہ لوگوں سے خدا منوا لو اور پھر ان کو چھوڑ دو۔اسی قدر ان کے اسلام کیلئے کافی ہے۔لیکن جب ہم آیت کریمہ کو دیکھتے ہیں تو وہ اس طرح ہے۔وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقٌّ قَدْرة إذ قالُوا مَا أَنزَلَ اللهُ عَلَى بَشَرِ مِن شَيْءٍ قُلْ مَنْ انزل الكتب الَّذِي جَاءَبِه مُوسى نُورًا وَهُدًى لِلنَّاسِ تَجْعَلُونَهُ قَرَاطِيْسَ تبدونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيرًا وَ عَلِمْتُمْ ما لَمْ تَعْلَمُوا أَنْتُمْ وَلا أَبَاؤُكُمْ ، قُلِ الله ، ثُمَّ ذَرْهُمْ في خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ ٣٠ يعنی ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی صفات کا اندازہ پورے طور پر نہیں لگایا جبکہ انہوں نے یہ بات کہی کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بندے پر کچھ نہیں اُتارا۔کہہ کون ہے جس نے وہ کتاب اُتاری تھی جو موسیٰ لائے تھے جونور تھی اور لوگوں کے لئے ہدایت تھی۔جس کتاب کو تم ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہو اس میں سے بعض کو ظاہر کرتے ہو اور بہت حصے کو چھپاتے ہو اور تم وہ بات سکھائے گئے ہو جو نہ تم جانتے ہو اور نہ تمہارے باپ دادے جانتے تھے ( یعنی قرآن کریم میں تو ایسے علوم ہیں جو تو ریت میں نہ تھے پھر وہ خدا کی کتاب ہو گئی اور یہ نہ ہوئی ) کہ یعنی تو ان کو اپنی طرف سے کہہ دے کہ خدا تعالیٰ نے موسی کی کتاب اُتاری تھی اور یہ جواب مُسکت ان کو دے کر ان کو چھوڑ