خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 442
خلافة على منهاج النبوة ۴۴۲ جلد اول یہ آیت جو مولوی محمد علی صاحب نے لکھی ہے کفار مکہ کے حق میں ہے اور سورۃ یوسف کے آخری رکوع میں وارد ہے۔اس آیت سے استدلال کر کے مولوی محمد علی صاحب نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسلام کی تعریف ایسی وسیع ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لانے والے بھی مومن ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ایک جزوی امر ہے جس کے فقدان پر انسان کا فرنہیں ہو جا تا۔اسی طرح اسی صفحہ پر وہ لکھتے ہیں :۔جو شخص لا اله الا الله کا انکار کر دے تو وہ اس دائرہ سے ہی خارج ہو گیا لیکن جو شخص لا اله الا اللہ کا اقرار کر کے کسی اور حصہ کو چھوڑتا ہے تو وہ دائرہ ،،كا کے اندر تو ہے مگر اس خاص حصہ کا کا فر ہے۔“ اس حوالہ سے یہ بھی ثابت ہے کہ ان کے نزدیک جو شخص لا إِلهَ إِلَّا الله مان لے وہ مسلمان ہو جاتا ہے کسی اور بات کے انکار سے جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی انکار شامل ہے اس کے مسلم ہونے میں کچھ شبہ نہیں پڑتا۔صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ وہ اسلام کے ایک حصہ کا کافر ہے دائرہ اسلام سے وہ خارج نہیں۔اور اس سے وہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انکار بھی ایک جزو کا انکار ہے نہ کہ دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔یہ عقیدہ ایک ایسا خطرناک عقیدہ ہے کہ اس سے اسلام کی ہی بیخ کنی ہو جاتی ہے۔کیونکہ قرآن کریم اسلام کے لئے اللہ ، ملائکہ ، کتب سماویہ، رسل اور یوم آخر پر ایمان لا نا ضروری قرار دیتا ہے۔پس یہ بات جو مولوی محمد علی صاحب نے لکھی ہے ہر گز حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کی لکھائی ہوئی یا پسند کی ہوئی نہیں ہو سکتی کیونکہ آپ کا مذہب بدر ۹ مارچ ۱۹۱۱ء کے پرچہ میں اس طرح درج ہے۔" لَا إِلَهَ إِلَّا الله کے ماننے کے نیچے خدا کے سارے ما موروں کے ماننے کا حکم آجاتا ہے حضرت آدم ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسی ، حضرت مسیح ان سب کا ماننا اسی لا اله الا الله کے ماتحت ہے حالانکہ ان کا ذکر اس کلمہ میں نہیں۔قرآن مجید کا ماننا، سیدنا حضرت محمد خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ، قیامت کا ماننا ، سب مسلمان جانتے ہیں کہ اس کلمہ کے مفہوم میں داخل ہے۔66