خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 441 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 441

خلافة على منهاج النبوة ۴۴۱ جلد اول مولوی محمد علی صاحب کا حضرت خلیفہ جب مولوی صاحب نے مضمون لکھ لیا تو نہ معلوم کس خوف سے اس بات کی اول کو مضمون سنانے کی حقیقت بے حد کوشش کی کہ علیحدہ وقت میں سنایا جاوے۔چناچہ ایک دن رات کے وقت پہرہ کر کے مضمون سنانا چاہا مگر عین وقت پر ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب پہنچ گئے اور بات رہ گئی۔دوسری دفعہ جمعہ کی نماز کا ناغہ کر کے مضمون سنایا۔حضرت خلیفہ اول کے بڑے بیٹے میاں عبدالحی مرحوم کا بیان ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح نے فرمایا کہ ابھی اسے شائع نہ کریں اور اس قسم کی بات بھی کہی کہ میرا مطلب کچھ اور تھا مگر چونکہ مرحوم کی عمر اُس وقت چھوٹی تھی ہم ان کی شہادت پر اپنے دعویٰ کی بناء نہیں رکھتے۔ہمارے پاس ایسی زبر دست اندرونی شہادت موجود ہے جو اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ یا تو مضمون کو حضرت خلیفتہ المسیح نے نا پسند کیا اور یا پھر ان کے دکھانے کے بعد اسے بدل دیا گیا اور یا اسے ایسے وقت میں سنایا گیا کہ جس وقت آپ کی توجہ کسی اور کام کی طرف تھی اور آپ نے اس کو سنا ہی نہیں اور وہ شہادت خود مولوی محمد علی صاحب کا مضمون ہے۔اس مضمون میں کئی ایسی باتیں لکھی گئی ہیں جو حضرت خلیفہ امسیح الاوّل جیسے عالم و فاضل کی طرف تو کجا ایک معمولی سمجھ کے آدمی کی طرف بھی منسوب نہیں ہوسکتیں۔مثال کے طور پر ہم چند باتیں ذیل میں درج کرتے ہیں :۔پہلی شہادت اس میں اسلام کی تعریف قرآن کریم و احادیث سے یہ ثابت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لے آنا کافی ہے اور کسی امر کی ضرورت نہیں۔چنانچہ مولوی محمد علی صاحب اس رسالہ میں لکھتے ہیں :۔بلکہ خود قرآن کریم نے اس مضمون کو ایک ہی آیت میں بالکل صاف کر دیا ہے جہاں فرمایا وَ مَا يُؤْ مِنْ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ ا جس میں سمجھایا ہے کہ اکثر لوگوں کا تو یہی حال ہے کہ اللہ پر ایمان لانے کے باوجود دل کے کسی نہ کسی کو نہ میں شرک باقی رہتا ہے۔پس باوجود مشرک ہونے کے بھی مومن کا لفظ ان پر بولا جاتا ہے۔1766