خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 437

خلافة على منهاج النبوة ۴۳۷ جلد اول آخر بیعت میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔گمنام ٹریکٹ شائع کرنے والے نے جس مقصد سے یہ ٹریکٹ شائع کئے تھے وہ مقصد اس کا پورا ہوا یا نہیں اس کو وہی خوب جانتا ہوگا۔ہمیں ان ٹریکٹوں کی اشاعت سے یہ فائدہ ضرور ہو گیا کہ وہ باتیں جو مولوی صاحب اور ان کے ساتھی خفیہ خفیہ پھیلا یا کرتے تھے ان کا عَلَى الْإِعْلان جواب دینے کا ہمیں موقع مل گیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے نفاق کا بھانڈا پھوٹ گیا۔اس ٹریکٹ کے بعد چند ماہ کے لئے امن ہو گیا۔مینجر پیغام اور بابومنظورالہی کو حضرت خلیفہ امسیح الاوّل سے معافی مانگنی پڑی اور بظاہر معاملہ دب گیا لیکن یہ لوگ اپنے کام سے غافل نہ تھے۔خواجہ صاحب کا غیر احمدیوں کے پیچھے نماز خواجہ کمال الدین صاحب نے ولایت کے حالات سے پڑھنے کی اجازت مانگنا اور نماز پڑھنا فائدہ اٹھا کر غیر احمد یوں کے پیچھے نماز پڑھنے کی اجازت طلب کرنی شروع کی۔کیونکہ بقول ان کے وہاں کے لوگ احمدیت سے واقف نہیں اور مسلمانوں میں فرقہ بندی کا علم ان کو دینا مناسب نہ تھا۔خواجہ صاحب کی کمزوری کو دیکھ کر حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل نے اُن کو اجازت دے دی لیکن خواجہ صاحب نے سب سے پہلے ظفر علی خان ایڈیٹر زمیندار کے پیچھے نماز ادا کی جو سخت معاند سلسلہ اور بدگو آدمی ہے اور اس طرح انگلستان کو بھی وہی پوزیشن دے دی جو ہندوؤں کے اعتقاد میں گنگا کو ہے کہ جو وہاں گیا پاک ہو گیا۔ہندوستان میں ظفر علی خان کے پیچھے نماز پڑھنا حرام لیکن انگلستان میں قدم رکھتے ہی وہ پاک ہو جاتا ہے اور اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز ہو جاتا ہے۔حضرت خلیفہ اول کے متعلق پیغام صلح کی غلط بیانی میں پہلے لکھ آیا تو ہوں کہ خفیہ طور پر شائع ہونے والے ٹریکٹوں کے جوابات کے بعد ظاہر طور پر امن ہو گیا تھا لیکن درحقیقت کینہ و بغض کی آگ ان لوگوں کے دلوں میں جل رہی تھی۔چنانچہ ۱۹۱۳ء کے دسمبر کے جلسہ پر اس کا اظہار ہو گیا اور وہ اس طرح کہ سالانہ جلسہ کی تقریر میں حضرت خلیفۃ المسیح نے ان گمنام طور پر شائع کردہ ٹریکٹوں کا ذکر اپنی تقریر میں کیا اور اس پر اظہار نفرت کیا۔اس