خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 436
خلافة على منهاج النبوة ۴۳۶ جلد اول مددگاروں کی ضرورت ہے اور بغیر مددگاروں کے یہ کام ہو نہیں سکتا۔پس ضرور ہے کہ ان کے ہم خیالوں کی ایک خفیہ سوسائٹی بنائی گئی تھی جس نے یہ کام کیا۔ٹریکٹوں کا اثر اور ان کا جواب جب یہ ٹریکٹ شائع ہوئے تو ان کا اثر ایک بمب سے زیادہ تھا وہ جماعت جو مسیح موعود علیہ السلام کی قائم کردہ تھی اس نے اس ٹریکٹ کی اشاعت پر اپنی ذمہ داری کو پھر بڑے زور سے محسوس کیا اور چاہا کہ اس کا جواب دیا جاوے۔جماعت کی ناراضگی اور حضرت خلیفہ امسیح کے غضب سے ڈر کر پیغام صلح میں جو تائیدی ریمارکس شائع ہوئے تھے اس کی تردید میں ایک مختصر سا نوٹ متعلقین پیغام صلح نے آخر میں شائع کیا ، لیکن اس کے الفاظ ایسے بیچ دار تھے کہ ان میں ان ٹریکٹوں کے مضمون کی اگر تردید نکلتی تھی تو تائید کا پہلو بھی ساتھ ہی تھا مگر اصل جواب ایک اور جماعت کے لئے مقدر تھا اور وہ انصار اللہ کی جماعت تھی چونکہ راقم ٹریکٹ نے ان ٹریکٹوں میں انجمن انصار اللہ کے خلاف خاص طور پر زہر اگلا تھا اور اخبار پیغام مصلح میں بھی انہی کو مخاطب کیا گیا تھا اس لئے حضرت خلیفہ اسیح نے خاص طور پر اس ٹریکٹ کا جواب اس جماعت کے سپرد فرمایا جو آپ کے ارشاد کے ماتحت دوٹریکٹوں کی صورت میں شائع کیا گیا۔پہلے ٹریکٹ میں اظہار الحق نمبر اول کا جواب لکھا گیا اور اس کا نام خلافت احمد یہ رکھا گیا۔دوسرے میں نمبر دوم کا جواب لکھا گیا اور اس کا نام اظہار الحقیقۃ رکھا گیا۔یہ ٹریکٹ خود حضرت خلیفہ اسیح نے دیکھے اور ان میں اصلاح فرمائی اور یہ فقرہ بھی ایک جگہ زائد فرما دیا ”ہزار ملامت پیغام پر جس نے اپنی چٹھی شائع کر کے ہمیں پیغامِ جنگ دیا اور نفاق کا بھانڈا پھوڑ دیا،۱۲ ان ٹریکٹوں کی اشاعت پر ہم نے چاہا کہ ان لوگوں سے بھی جن کی تائید میں یہ ٹریکٹ گمنام آدمی نے لکھے ہیں اس کی تردید میں کچھ لکھ دیا جائے۔لیکن چونکہ ان لوگوں کے دل میں منافقت تھی اور یہ دل سے اس کی تائید میں تھے اس لئے انہوں نے بیسیوں عذروں اور۔بہانوں سے اس کام سے انکار کیا۔سوائے میر حامد شاہ صاحب مرحوم کے کہ جنہوں نے ان سوالات کے جواب لکھ دیئے جو ان کو لکھے گئے تھے اور یہی صاحب ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے