خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 431
خلافة على منهاج النبوة ۴۳۱ جلد اول اُکسایا ہے کہ احمدی جماعت کو اس مصیبت سے بچانے کی کوشش کریں اور راقم ٹریکٹ۔اس امر میں خط و کتابت کریں۔ٹریکٹ لکھنے والا کون تھا ؟ اس ٹریکٹ کے آخر میں گو نام نہ تھا مگر چند باتیں اس کی اس قسم کی تھیں جو صاف طور پر بتلاتی ہیں کہ ان ٹریکٹوں کے لکھنے والے کون تھے۔اول۔یہ تمام کے تمام ٹریکٹ لاہور سے شائع ہوتے تھے جو اُس وقت مولوی محمد علی صاحب کے ہم خیالوں کا مرکز تھا۔مرکز کے لفظ سے یہ مراد نہیں کہ اُس وقت بھی قادیان کے مقابلہ پر لا ہور کو مرکز ظاہر کیا جاتا تھا بلکہ بوجہ اس کے کہ مولوی محمد علی صاحب کی پارٹی کے اکثر آدمی وہاں ہی رہتے تھے اور اخبار پیغام صلح ان کا آرگن بھی وہیں سے شائع ہوتا تھا لا ہور اُس وقت بھی مرکز کہلانے کا مستحق تھا گو کھلم کھلا طور پر حضرت خلیفہ اول کی وفات پر اسے مرکز قرار دیا گیا ہے۔۲۔اکثر جگہ پر یہ ٹریکٹ پیغام صلح کی مطبوعہ چٹوں میں بند شدہ پہنچا تھا جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دفتر پیغام صلح سے یہ بھیجا گیا تھا۔یا یہ کہ پیغام صلح کے متعلقین اس کی اشاعت میں دخل رکھتے تھے۔۔اس ٹریکٹ کا لکھنے والا لوگوں سے چاہتا ہے کہ وہ اس سے اس کے مضمون کے متعلق خط و کتابت کریں لیکن اپنا پتہ نہیں دیتا جس سے طبعا یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ پتہ نہیں دیتا تو لوگ اس سے خط و کتابت کیونکر کریں۔اور معلوم ہوتا ہے کہ اس نے پہلے پتہ لکھا ہے پھر مصلحتا اسے کاٹ دیا ہے لیکن چونکہ اصل مضمون میں سے یہ عبارت کہ لوگ اس سے خط و کتابت کریں نہیں کئی ہوئی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب مضمون چھپنا شروع ہو گیا ہے تب پتہ کاٹنے کا خیال ہوا اور چونکہ اصل مضمون کا کوئی حصہ کاٹنے میں دیر لگتی تھی اور عبارت خراب ہونے کا خطرہ تھا اس لئے اسے اسی طرح رہنے دیا ہے۔اب ہم ٹریکٹوں کو دیکھتے ہیں تو ان پر سے اُنگلی سے رگڑ کر مضمون کے خاتمہ پر کچھ عبارت کٹی ہوئی ہے اور بعض ٹریکٹ ہمیں ایسے بھی ملتے ہیں جن پر معرفت اخبار کا لفظ کٹنے سے رہ گیا ہے اور بعض