خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 430

خلافة على منهاج النبوة ۴۳۰ جلد اول معرفت خلیفہ کو کہلوایا کہ آپ کی بیعت تو ہم نے کر لی ہم کسی آرائیں وغیرہ کی بیعت نہیں کریں گے۔جس پر مولوی صاحب نے ان کی حسب مرضی جواب دے کر ٹال دیا۔اس کے بعد انجمن کے معاملات میں دخل دینے اور مولوی محمد علی صاحب کو تنگ کرنے کیلئے ہر ہر جائز و نا جائز کوشش شروع ہو گئی۔پھر میر محمد الحق صاحب کے ذریعہ ایک فساد کھڑا کر دیا گیا (ان سوالات کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر میں پہلے تاریخ سلسلہ کے بیان میں کر چکا ہوں ) اور کارکنان انجمن کے خلاف شور ڈال دیا گیا۔اور مرزا محمود صاحب کو مدعی خلافت کے طور پر پیش کیا جانے لگا اور مشہور کیا گیا کہ انجمن کے کارکن اہل بیت کے دشمن ہیں۔حالانکہ یہ غلط ہے۔اہل بیت قوم کا روپیہ کھا رہے ہیں اور انجمن اور اس کے اراکین پر ذاتی حملے کر رہے ہیں۔مولوی محمد علی صاحب پر الزام لگائے جاتے ہیں۔پیغام صلح کی اشاعت کا سوال پیدا ہوا تو جھٹ الفضل کی اجازت خلیفہ سے مانگی گئی جنہوں نے ڈر کر ا جازت دے دی۔ہمارے مضامین میں منتظمین پیغام کا کچھ دخل نہیں نہ ان کو خبر ہے۔کانپور کا واقعہ جب ہوا تو منتظمانِ پیغام نے خلیفہ رجب الدین کو ٹریبیون شے دے کر قادیان بھیجا اور مولوی صاحب کا خط منگوایا۔اگر اس کے چھاپنے میں کوئی خلاف بات کی گئی تھی تو مولوی صاحب کو چاہئے تھا کہ اس کی تردید پیغام میں کرتے نہ کہ منتظمانِ پیغام پر ناراض ہوتے۔مولوی صاحب نے اخبار پیغام صلح کو کانپور کے جھگڑے کے باعث نہیں بلکہ ایک معمولی بات پر ناراض ہو کر بند کر دیا تھا۔بھائیو! تعجب ہے ایک عالم قرآن ( حضرت خلیفہ اول) اس طرح بلا وجہ ایڈیٹر پیغام اور دوسرے متعلقین کو زبانی اور بذریعہ الفضل ذلیل وخوار کرنا شروع کر دیتا ہے۔کیا یہی انصاف اسلام سکھاتا ہے؟ پیغام کے خلاف الحق دہلی نے جو زہر اگلا ہے اس کا جواب چونکہ قادیان والوں نے نہیں دیا اس لئے وہی اس کے محرک ہیں۔اس کے آگے ذاتی عیوب کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جس کا سمجھنا بغیر تفصیل کے بیرونجات کے لوگوں کے لئے مشکل ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اہل بیت لوگوں کو ورغلا ر ہے ہیں اور بزرگانِ سلسلہ کو بدنام کر رہے ہیں اور جماعت کو